.

ایران وفادار ملیشیاؤں کوامریکی اہداف پرحملوں کے احکامات کیسے دے رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں امریکی افواج کے خلاف گذشتہ ہفتوں کے دوران ملیشیا کے حملوں میں اضافے کے ساتھ سیکیورٹی ذرائع نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے رہ نماؤں نے عراقی ملیشیا کو امریکی اہداف پر حملوں کے احکامات دیئے تھے۔

دو عراقی سیکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے ’‘رائیٹرز‘ کو بتایا کہ پاسداران انقلاب کے ایک سینیر کمانڈر نے کچھ دن قبل بغداد میں عراقی عسکری گروپوں کے لیڈروں سے ملاقات کی تھی۔ اس میٹنگ میں انہوں نے امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے احکامات دیئے تھے۔

معلومات میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ پاسداران انقلاب کی طرف سے احکامات دینے کے باوجود عراقی عسکریت پسندوں کو امریکیوں کے ساتھ کشیدگی کو غیرمعمولی حد تک بڑھانے سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی تھی۔

جہاں تک ہدایات کا تعلق ہے ان میں شام اور عراق میں امریکی سائٹوں کو نشانہ بنانے کے احکامات شامل ہیں۔

ایجنسی کے ذرائع نے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ پاسداران انقلاب کی انٹلی جنس کے سربراہ حسین تائب نے عراقی ملیشیا سے واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کے لیے ملاقات کی۔ اس میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ ایرانی عہدیداروں نے امریکی فوج کے ٹھکانوں کے ملیشیا کو نقشے حوالے کردیئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے جوہری تنازع میں عراق میں اپنے اتحادیوں کو پریشر کارڈ کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ عراق میں امریکا اور عسکری گروپوں میں کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ویانا مذاکرات میں معاہدے کو بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ عراق میں دوسروں کے ساتھ مل کر مشرقی شام میں حملوں کی کوشش کرنا ایران کا ایک نیا منصوبہ ہے جو مسلح دھڑوں کے ذریعہ عمل میں آیا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے ، عراق اور شام دونوں ممالک میں امریکی سائٹوں اور مفادات کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔