.

پاکستان کے ساتھ ایک اہم سرحدی گزر گاہ پر طالبان کا حملہ پسپا کر دیا: افغانستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان وزارت داخلہ نے باور کرایا ہے کہ اس کی فورسز نے پاکستان کے ساتھ ایک سرحدی ٹھکانے پر طالبان تحریک کے قبضہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔

وزارت داخلہ کے ترجمان طارق عریان نے بدھ کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "طالبان تحریک کے جنگجو اسپن بولدک میں سرحدی علاقے کے نزدیک متحرک ہوئے تاہم سیکورٹی فورسز نے ان کا حملہ پسپا کر دیا۔

طالبان تحریک نے جنوبی صوبے قندھار میں پاکستان کے ساتھ سرحد پر ایک اہم گزر گاہ پر کنٹرول حاصل کر لینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ بات طالبان کے ترجمان نے بتائی تھی۔

اس سے قبل پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ایک ذمے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا تھا کہ طالبان نے اسپین بولدک اور چمن کے بیچ سرحدی گزر گاہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ ذمے دار نے واضح کیا کہ "طالبان نے افغان پرچم اتار کر اپنا پرچم لہرا دیا"۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل افغان طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔ یہ جھڑپیں واشنگٹن کی جانب سے افغانستان سے اپنی افواج کا انخلا شروع کرنے کے اعلان کے بعد شروع ہوئیں۔ اس طرح افغانستان میں امریکی فوج کی 20 برسوں کی موجودگی اختتام پذیر ہو رہی ہے۔

رواں ماہ جولائی کے دوران میں امریکی ذمے داران نے افغانستان میں اپنے سب سے بڑے فضائی اڈے "بگرام" کو خالی کر دیا۔

چند روز پہلے امریکی صدر جو بائیڈن باور کرا چکے ہیں کہ ان کا ملک آئندہ ماہ اگست کے اواخر تک انخلا کا عمل مکمل کر لے گا۔