.
سعودی معیشت

اصلاحات نے سعودی معاشی ڈھانچے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا: گورنر مرکزی بنک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مرکزی بینک "ساما" کے گورنر ڈاکٹر فہد بن عبد اللہ المبارک نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت میں معاشی شعبے میں بہت سی اصلاحات سامنے آئی ہیں جنہوں نے معیشت کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور معاشی شعبے کو مزید تقویت دینے اور متنوع بنانے میں مدد ملی ہے۔ چاہے قدرتی وسائل ، جغرافیائی محل وقوع ، انسانی قابلیت ، بنیادی ڈھانچہ اور ٹیکنالوجی ہر لحاظ سے سعودی معیشت کو تنوع حاصل ہوا ہے۔

پچاسسویں سالانہ رپورٹ جس میں مالی سال 2020 کے دوران مملکت میں ہونے والی سب سے اہم معاشی اور مالی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا میں گورنر مرکزی بنک نے مزید کہا کہ صحت اور مالیاتی شعبے میں خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد کی طرف سے جاری کردہ ترغیبی پیکجوں اور غیر معمولی اقدامات کے سے سعودی معیشت پر کرونا وائرس کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس میدان میں سعودی مرکزی بینک کے اقدامات نے عام طور پر نجی شعبے اور خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر اس وبائی مرض کے اثرات کو کم کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔

المبارک نے توقع کی کہ مملکت اور باقی دنیا میں احتیاطی تدابیر کو کم کرنے کے علاوہ کوویڈ 19 وائرس کے خلاف ویکسینیشن کی توسیع کے ساتھ معیشت کی بحالی میں بھی اضافہ جاری رہے گا۔ آنے والے دنوں میں تیل کی طلب،نقل و حرکت، فضائی سفر اور سیاحت کے شعبے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

المبارک نے مزید کہا کہ کرونا کے بحران کے خاتمے کے بعد خاص طور پر تیل سے ماورا شعبے بالخصوص نجی شعبے کی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد سعودی معیشت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

"ساما" کے گورنر نے بتایا کہ 2021 کی پہلی سہ ماہی کے نتائج معیشت میں بحالی کی رفتار کی عکاسی کرتے ہیں۔تیل کی حقیقی پیداوار میں 2.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔نجی شعبے میں 4.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نجی حتمی صارفین کے اخراجات میں 1.3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سعودیوں کے درمیان بے روزگاری کی شرح 11.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو 2020 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران 12.6 فیصد تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا کے دوران اٹھائے گئے احتیاطی اقدامات کے نتیجے میں مائیکرو ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے اب بھی متاثر ہیں ڈاکٹر فہد بن عبد اللہ المبارک نے تصدیق کی ہے کہ سعودی مرکزی بینک نے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں اور اس کی حمایت کے لیے پروگراموں کا ایک سیٹ شروع کیا ہے۔ ان کاروباری اداروں نے پچھلے سال اور اس سال اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔