.

اسرائیل نے غزہ کے حوالے سے ترکی کا کوئی بھی کردار مسترد کردیا

قیدیوں کی ڈیل کے لیے قاہرہ کی ثالثی پر قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’العربیہ‘چینل کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں ترکی کے لیے کسی بھی کردار کو مسترد کرتا ہےاور وہ قیدیوں کے معاہدے کے معاملے میں قاہرہ کی ثالث کی حیثیت پر اصرار کرتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب نے انقرہ کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ قیدی معاہدے میں ثالثی کی پیش کش کو مسترد کر دیا ہے۔

فلسطینی تنظیم ’حماس‘ نے کہا تھا کہ اس کے پاس قیدیوں کےتبادلے کے سلسلے میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے مضبوط کارڈ موجود ہیں ، لیکن اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ حماس کے پاس ایسا کیا کچھ ہے۔

’اسرائیل ہیوم‘ اخبار نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی عہدیداروں نے مشورہ دیا ہے کہ " حماس "کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاملہ چند ہفتوں یا مہینوں میں حل ہو جائے گا۔

اسرائیلی اخبار نے مصری انٹیلی جنس کے ایک اعلی درجے کے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ دونوں فریقین کے مابین جنگ بندی کے بعد سے اب تک اس کیس میں کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی سیاسی صورتحال اس میں پیش رفت میں رکاوٹ ہے۔ جب کہ قاہرہ موجودہ اسرائیلی حکومت کے عزائم سے کچھ زیادہ واقف نہیں۔

العربیہ / الحدث ذرائع نے اتوار کو اطلاع دی تھی کہ مصر اسرائیل میں صورتحال اور تبدیلیوں کا انتظار کر رہا ہے تاکہ وہ ایک تفصیلی نقطہ نظر پیش کریں۔ذرا کا کہنا تھا کہ تل ابیب اور حماس کے مابین قیدیوں کی ڈیل آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مصر نے گذشتہ ہفتے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اس نے فلسطینی دھڑوں کو قاہرہ میں ایک ہنگامی اجلاس کی دعوت دی تھی ، جس کا مقصد جنگ بندی سمیت متعدد امور پر متفقہ نقطہ نظر تک پہنچنا ہے۔