.

بعض قوتیں افغانستان میں خانہ جنگی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں: حامد کرزئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ’العربیہ‘ ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بعض قوتیں افغانستان کی موجودہ کشیدہ صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن وامان کا قیام صرف افغان حکومت ذمہ داری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں حامد کرزئی نے کہا کہ پاکستان کےوزیراعظم (عمران خان) نے افغانستان میں امن کو آگے بڑھانے میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ امریکا بھی امن کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان خطے کا اہم ملک ہے اور افغان قوم کو اپنے مفادات کا خود دفاع کرنا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک کئی عشروں سے پراکسی جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ تزویراتی اعتبار سے افغانستان امریکا کے لیے بھی اہم ہے۔

حامد کرزئی نے کہا کہ افغان انٹیلی جنس نے افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کے بارے میں کوئی نئی معلومات نہیں دی ہیں۔

قبل ازیں جمعرات کو پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ افغانستان سے متصل سرحدی گذرگاہ پر طالبان کے قبضے کے بعد سرحد کو سیل کردیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغان حکومت کے ایک سینیر عہدیدار نے خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ سپین بولدک گذرگاہ کا کنٹرول دوبارہ واپس لے لیا ہے تاہم تحریک طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ سپین بولدک گذرگاہ پر ان کا کنٹرول موجود ہے۔

بدھ کی شام کو طالبان نے سپین بولدک گذرگاہ پرقبضے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان اور افغانستان کےدرمیان یہ دوسری بڑی گذرگاہ ہے۔

طالبان کی تردید کے باوجود جنوبی قندھار میں افغان حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ قندھار کا مرکزی بازار اور کسٹمز دفتر اور دیگر سرکاری عمارتیں طالبان سےواپس لے لی گئی ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بعض مقامات پر شہریوں کے جانی نقصان سے بچنے کے لیے حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کی ہے۔ تاہم طالبان کے خلاف آپریشن جاری رکھا جائے گا۔