.

افغان خاتون میئر نے برطانیہ کا طالبان کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ 'مایوس کن' قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے شہر وردک کی خاتون میئر ظریفہ غفاری کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر دفاع بین والس کی جانب سے طالبان تحریک کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی کا اعلان "خفّت آمیز اور نہایت مایوس کن" ہے۔ ظریفہ نے یہ بات برطانوی اخبار The Daily Telegraph کو دیے گئے انٹرویو کے دوران کہی۔

ظریفہ نے برطانوی وزیر دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آیا وہ اپنی بیٹی کو بھی تعلیم حاصل کرنے یا اپنے وطن اور اپنی قومی شناخت اور اپنے حقوق اور خوابوں کے لیے لڑنے سے روک دیں گے!

ظریفہ نے واضح کیا کہ طالبان نہ بدلے اور نہ بدلیں گے۔ انہوں نے امریکی اور برطانوی افواج کے انخلا کے فورا بعد افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک اہم سرحدی گزر گاہ پر تیزی سے کنٹرول حاصل کر لیا۔

یاد رہے کہ بین والس نے بدھ کے روز "دی ٹیلی گراف" اخبار میں شائع ہونے والے انٹرویو میں اعلان کیا تھا کہ اگر طالبان تحریک افغانستان میں حکومت میں شامل ہوئی اور انسانی حقوق کا احترام کیا تو برطانیہ طالبان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ان کی حکومت قائم رہتی ہے برطانوی حکومت اس کے ساتھ تعاون کرے گی بشرط یہ کہ طالبان حکومت بعض بین الاقوامی معیارات کا احترام کرے۔

برطانوی وزیر دفاع نے اقرار کیا کہ افغانستان میں تعینات رہتے ہوئے برطانیہ کے 457 فوجی اہل کار مارے گئے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امن کے تمام عمل دشمن کے ساتھ موافقت کا تقاضا کرتے ہیں۔

رواں سال مئی کے آغاز میں افغانستان میں 20 برس سے امریکا کے زیر قیادت موجود بین الاقوامی افواج کا انخلا شروع ہو گیا۔ انخلا کا عمل اگست کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا۔

اس انخلا کے سبب طالبان تحریک نے دو ماہ سے افغان فورسز پر حملے شروع کر دیے جن کے نتیجے میں انہیں دیہی علاقوں میں وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل ہو گیا۔ طالبان تحریک کا کہنا ہے کہ افغانستان کی 85% اراضی پر اس کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔