.
ایرانی مظاہرے

صوبہ اھواز میں ایرانی سکیورٹی فورسز نےنہتے مظاہرین پر گولی چلا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران انٹرنیشنل چینل نے جُمعہ کے روز اطلاع دی ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے ایران کے جنوب مغرب میں واقع اہواز صوبے میں ابتر معاشی صورت حال کے خلاف احتجاج کرنےوالے مظاہرین پر گولی چلا دی جس کے نتیجے میں کئی شہری زخمی ہو گئے۔ خراب معاشی صورت حال کی وجہ سے دوسرے پڑوی صوبوں یں بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔

چینل نے ایک ویڈیو کلپ اپ لوڈ کیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے رات کے وقت ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کی تھی۔

اس چینل نے اس سے قبل جمعہ کو اھواز اور پڑوسی شہروں سے احتجاج کی رپورٹ دی تھی اور بتایا تھا کہ صوبہ اھواز اور کئی دوسرے شہروں اور علاقوں میں مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئیں۔ اپوزیشن کے ترجمان انٹرنیشنل چینل کے مطابق اھواز اور دوسرے علاقوں میں ہونے والے مظاہرے معیار زندگی کے حوالے سے ناقص سہولیات، پانی کی کمی، ندیوں کے خشک ہونے اور حکومت کی طرف سے امتیازی سلوک کا نتیجہ ہیں۔

مصطفى نعيماوی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے
مصطفى نعيماوی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے

جمعہ کے روز ایرانی حکومت نے ملک کے جنوب مغرب میں تیل سے مالا مال صوبے خوزستان میں سینیر عہدیداروں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ بھیجا اور انھیں پانی کی قلت کے مسئلے کا "فوری حل" سونپ دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’تسنیم‘کے مطابق خوزستان میں پانی کی قلت کے باعث لوگوں نے کچھ شہروں میں مظاہرے شروع کیے ہیں۔

مظاہرے کی ویڈیوز سے ماخوذ تصاویر
مظاہرے کی ویڈیوز سے ماخوذ تصاویر

ایجنسی نے مزید کہا کہ جمہوریہ ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے تہران کے شمال مغرب میں تقریبا 545 کلومیٹر جنوب مغرب میں خوزستان کے صوبائی دارالحکومت اہواز کو توانائی ، زراعت اور بجٹ کے نائب وزراء بھیجے تاکہ وہ پانی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کرسکیں۔