.

جو بائیڈن نے افغانستان میں فوجی ہم آہنگی سے متعلق روسی پیش کش نظر انداز کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین نے امریکی صدر جو بائیڈن کو پیش کش کی تھی کہ وہ افغانستان میں کارروائیوں کے لیے وسطی ایشیاء میں موجود روسی فوجی اڈے استعمال کریں۔

کومرسنٹ اخبار نے بتایا کہ جنیوا سربراہ اجلاس کے دوران پوتین نے اپنے امریکی ہم منصب جو بائیڈن کو افغانستان سے متعلق فوجی اور سیاسی تعاون کو مربوط کرنے کی پیش کش کی۔

روسی اخبار کے مطابق صدر پوتین نے کہا کہ امریکا روسی اڈوں کے ذریعے اپنے ڈرون کی مدد سے افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھ سکتا ہے۔ امریکا چاہے تو افغانستان کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے تاجکستان اور کرغیزستان میں روسی فوجی اڈوں کو استعمال کر سکتا ہے۔

ایک باخبر ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ امریکیوں نے روسی پیش کش پر تاحال کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر واشنگٹن دوسرے کاموں کے حصول کا ارادہ نہ رکھتا ہوتا تو ایسی تجویز کو لامحالہ قبول کر لیتا۔

اخبار نے لکھا ہے کہ افغانستان کے لیے امریکی خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے اس موضوع پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس پیش کش کی کریملن سے بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔