.
کرونا وائرس

ایران:تہران میں کووِڈ-19 کے کیسوں میں اضافے کے بعد سرکاری دفاتراور بنک بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے دارالحکومت تہران اور اس کے پڑوس میں واقع ایک اور صوبہ میں کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظرسخت اقدامات کا اعلان کیا ہے اور تہران میں سرکاری دفاتر اور بنک بند کردیے ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اسی ماہ کے اوائل میں ملک میں کروناوائرس کی پانچویں لہر سے خبردار کیا تھا۔ایران مشرقِ اوسط میں اس مہلک وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے اور یہاں اب اس کی نئی شکل ڈیلٹا کے بھی بڑی تعداد میں نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔

ایرانی حکومت نے کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں کی تعدادمیں اضافے کے بعد تہران اور اس کے پڑوس میں واقع صوبہ البرز میں سرکاری دفاتر کو سوموار کی شام چھے بجے سے آیندہ سوموار تک بند کردیا ہے۔

ایران کی کرونا ٹاسک فورس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’نئی قدغنوں کے تحت ان دونوں صوبوں میں کارپر سفر پر بھی پابندی ہوگی اور تہران اورالبرز سے کوئی شخص کار پر سوار ہوکرباہر جاسکے اور نہ ان دونوں صوبوں کی حدود میں داخل ہوسکے گا۔‘‘

ایرانی حکومت نے کرونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے یہ اقدامات عیدالاضحیٰ سے صرف دوروز قبل کیے ہیں۔ایران میں بدھ کو عیدالاضحیٰ منائی جارہی ہے۔

ایران کے فراہم کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک ملک میں 35لاکھ سے زیادہ افراد کرونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ان میں سے 87370 افراد وفات پا چکے ہیں۔گذشتہ 24 گھنٹے میں ایرانی وزارت صحت نے 25441نئے کیسوں کی تشخیص کی اطلاع دی ہے۔اس سے پہلے 14 اپریل کو 25582 کیس ریکارڈ کیے گئے تھے۔

وزارت صحت کے مطابق کرونا وائرس کا شکارمزید 213 افراد وفات پاگئے ہیں۔ان میں سے 92 اموات صرف صوبہ تہران میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ایران میں گذشتہ سال کے اوائل میں کروناوائرس کی وبا پھیلنے کے بعدپہلی مرتبہ سرکاری دفاتراور بنکوں کو بند کیا گیا ہے۔ایرانی حکومت نے گذشتہ ڈیڑھ ایک سال میں وبا کے دوران میں مکمل لاک ڈاؤن سے گریزکیا ہے اور اس کے بجائے عارضی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں

صدر حسن روحانی نے گذشتہ ہفتے کے روزخبردار کیا تھا کہ حفظان صحت کے پروٹوکولزکی بہت کم پاسداری کی جارہی ہے اور ایران کے قریب قریب تمام علاقوں میں کروناوائرس کے یومیہ کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

ایران کو امریکا کی عاید کردہ پابندیوں کی وجہ سے کرونا وائرس کی ویکسین کے حصول میں دشواری کاسامنا ہے اور وہ ان پابندیوں کی وجہ سے بیرون ملک دوا ساز فرموں سے ویکسین خریدار کرنے کے لیے رقوم منتقل نہیں کرسکتا ہے۔ایران کی آٹھ کروڑ تیس لاکھ آبادی میں سے صرف 61 لاکھ کو ویکسین کی پہلی خوراک لگائی جاسکی ہے جبکہ صرف 22 لاکھ افراد کو ویکسین کی دونوں خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔

ایرانی حکام نے ملک میں مقامی ساختہ دوویکسینوں کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی ہے۔ان میں سے ’کووایران برکات‘ کو بڑے پیمانے پر تیارکیا جارہا ہے مگر اس کے باوجود شہروں میں اس کی رسد کم ہے۔