.

لیبیا میں بیرونی مداخلت روکنے کے لیے یورپی فوجی مشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے لیبیا میں سیاسی عمل کو سہارا دینے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک فوجی مشن کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بات ایک یورپی سفارت کار نے بتائی۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے نے پیر کے روز بتایا کہ یورپی دستاویز میں موجود تفصیلات کے مطابق مشن کا مقصد لیبیا میں بیرونی مسابقت پر روک لگانا ہے۔ دستاویز میں ترکی کا نام لیے بغیر لیبیا میں اس کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

لیبیا میں قومی یک جہتی کی حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ نے ہفتے کے روز اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ان کا ملک اپنی سرزمین پر کوئی غیر ملکی فورس یا اجرتی جنگجو باقی نہیں رہنے دے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت انتخابات کے انعقاد پر کام کرے گی۔

یاد رہے کہ لیبیا کی حکومت نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں تمام غیر ملکی اجرتی جنگجوؤں ، غیر ملکی فورسز اور مسلح گروپوں کے ملک سے باہر نکالے جانے کی اہمیت کو باور کرایا تھا۔ اس کا مقصد ایک جامع منصوبے ضمن میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران ترکی نے ہزاروں شامی اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا کی سرزمین پر پہنچایا۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق اس وقت بھی 6000 سے زیادہ جنگجو لیبیا میں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ انقرہ نے سیکڑوں فوجی اہل کاروں اور عسکری مشیروں کو دارالحکومت طرابلس اور لیبیا کے دیگر علاقوں میں پہنچایا۔