.

امریکا کابل ہوائی اڈے کے انتظام اورسکیورٹی کے لیے ترک مشن کی مالی معاونت کرے:ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان دارالحکومت کابل کے ہوائی اڈے کو چلانے اور اس کی سکیورٹی کے لیے مالی ، لاجسٹیکل اور سفارتی امداد مہیا کرے۔

ترکی نے افغانستان سے امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کے انخلا کے بعد کابل کے ہوائی اڈے کا انتظام چلانے اور وہاں سکیورٹی مہیا کرنے کے لیے اپنے فوجی تعینات کرنے کی پیش کش کی ہے جبکہ طالبان نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس پیش کش کو عملی جامہ پہنانے سے گریز کرے۔

صدرایردوآن نے منگل کے روز شمالی قبرص میں گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ’’طالبان کے اس معاملے میں بعض تحفظات ہیں مگر ترکی اس کے باوجود اس مشن کو انجام دینے کو تیار ہے۔البتہ اس ضمن میں امریکا کو ترکی کے تین مطالبات کو پورا کرنا ہوگا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اگر ان تین شرائط کو پورا کردیا جاتا ہے تو پھر ہم کابل کے ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنے کو تیار ہیں۔‘‘ان کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں ترکی کی سفارتی حمایت کی جائے،اس کے علاوہ امریکا افغانستان میں اپنی تنصیبات اور لاجیسٹک وسائل ترکی کے سپردکرے۔

انھوں نے نکوشیا میں عیدالاضحیٰ کی نماز کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہاں (کابل میں) بعض سنجیدہ مالیاتی اور انتظامی مشکلات درپیش ہوں گی۔امریکا کو اس ضمن میں ترکی کو ضروری معاونت مہیاکرنا ہوگی۔‘‘

ترکی کو یہ توقع ہے کہ اگر وہ کابل کے ہوائی اڈے کے مشن کو سنبھال لیتا ہے تو اس سے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے میں مددملے گی۔اس وقت ترکی اورامریکا کے درمیان مختلف امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور ترکی کے روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام خرید کرنے پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں تناؤآیا ہے۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کےانخلا کے ساتھ ساتھ طالبان نے مختلف محاذوں پر پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اورانھوں نے ملک کے بہت سے اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔ترک صدرنے سوموار کو قبرص روانہ ہونے سے قبل کہا تھا کہ ’’طالبان کو قبضہ ختم کردینا چاہیے‘‘ لیکن منگل کے روز انھوں نے ذرانرم مؤقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ترکی اور طالبان کے درمیان بات چیت میں درپیش مسائل پر قابوپالیا جائے گا اور یہ بات چیت ماضی کے مقابلے میں مختلف ہوگی۔‘‘