.

’فاطمیون‘ ملیشیا کی طرز پر افغانستان میں ایران کا نیا ’فتنہ‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے لگتا ہے کہ ایران ان دنوں افغانستان کی سرزمین پر اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کا ایک نیا موقع ڈھونڈ رہا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس شدت پسند طالبان تحریک کے خلاف توازن تلاش کرنے کی طاقت اور صلاحیت موجود ہے اور وہ افغانستان میں استحکام لا سکتا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے تہران کو دوسرے میدانوں میں اپنے پچھلے تجربات کو دوبارہ پیش کرنے سے بہتر نہیں ملا۔ ایران کے ایک مقامی اخبار نے افغانستان میں ایک نئی ملیشیا کے قیام کا انکشاف کیا کہ جسے "شیعہ موبلائزیشن" یا ’الحشد الشیعی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ تنظیم شدت پسند طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

اخبار کے مطابق ایرانی ملیشیا حال ہی میں افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شیعہ محلوں میں نمودار ہوئی ہے اور وہ طالبان سے لڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اس کے ساتھ نئی تنظیم ایران کے حمایت یافتہ ایک اور افغان دھڑے میں شامل ہو گئی جو "فاطمیون بریگیڈ" کے نام سے پہلے ہی شہرت پا چکی ہے۔ فاطمیون ملیشیا ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی سمندر پار کارروائیوں کی ذمہ دار القدس بریگیڈ سے مالی، مادی اور عسکری مدد حاصل کرتی ہے۔ فاطمیون ملیشیا کے جنگجوؤں کی کم وبیش تعداد 30،000 ہے۔ اس نے شام کی جنگ میں بھرپور حصہ لیا تھا۔

اس تنظیم نے افغانستان میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، لیکن وزیر خارجہ جواد ظریف اس کے بارے میں خدشات کو کم کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک افغان ٹی وی چینل کو بتایا کہ بریگیڈ کے جنگجوؤں کی تعداد 5 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ وہ افواج کے لیے ایک معاون فورس کے طور پر داعش جیسے گروپوں سے لڑ سکتی ہے۔

ایک طرف ایران افغانستان میں اپنے وفاداروں کو عسکری طور پر منظم کر رہا ہے۔ انہیں اسلحہ اور دیگر امداد فراہم کرنے میں مصروف ہے تو دوطرف تہران نے طالبان کے ساتھ بھی مذاکرات کےلیے ہاتھ بڑھا دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت اور مصالحت کے لیے ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے متعدد ادوار تہران کی میزبانی میں ہوچکے ہیں۔