.

اسرائیل کی سلامتی کونسل سے حزب اللہ کی مذمت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے جمعرات کو بتایا اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور سلامتی کونسل کے ارکان کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہیں لبنان کی حزب اللہ ملیشیا کی مذمت کرنے کی اپیل کی ہے۔

اپنے پیغام میں اردان نے کہا ہے کہ گذشتہ مئی میں حماس کے ساتھ کشیدگی کے دوران اور رواں ہفتے حزب اللہ کی طرف سے لبنان سے اسرائیل پر راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ یہ واقعات اقوام متحدہ کی امن فوج UNIFIL کے آپریشن کے علاقے کی ہنگامہ خیز صورتحال کی ایک اور مثال پیش کرتے ہیں اور اس علاقے میں غیر مجاز اسلحہ اور گولہ بارود کی موجودگی کے واضح ثبوت ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل توقع کرتا ہے کہ UNIFIL حملے کے بارے میں فوری اور جامع تحقیقات کرے گا اور اس کے نتائج کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس بھیجے گا۔

'مہنگی قیمت'

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں کےبعد دھمکی دی ہے کہ اسرائیل کی خود مختاری پر لبنان کی طرف سے کسی بھی خطرے کا بھرپور دفاع کرے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویحائی ادرعی نے بتایا کہ آرمی چیف لبنان کی طرف سے لاحق خطرات سے آگاہ ہیں۔ آرمی چیف آوی کوچاوی نے کہا ہے کہ لبنان تباہی کی حالت میں ہے۔ اس خاتمے میں حزب اللہ کا ایک اہم کردار ہے ۔اس کے باوجود ہم شمال کی طرف پیش آنے والی اس نوعیت کی فائرنگ کی اجازت نہیں دیں گے۔ سرائیل کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو اس کا اعلانیہ اور خفیہ جواب دیا جائے گا۔

ادرعی نے وضاحت کی کہ کوچاوی نے ایک سیمینار کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی طرف سے درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی مشقیں کی جائیں گی۔

خیال رہےکہ اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ دھمکی آمیز بیان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کل منگل کو لبنان سے اسرائیل پر دو راکٹ داغے گئے تھے۔

جنوبی لبنان سے راکٹ حملوں کے بعد اسرائیلی فوج کے شعبا فارمز کے علاقے میں دھواں چھوڑنے والے بم گرائے۔ اس کے علاوہ جنوبی لبنان میں حامول تلہ کے مقام پر گولہ باری کی گئی۔

ادھر لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے 155دھانے والی توپ کے 12 گولے داغے گئے