.

بھارت:مغربی ریاستوں میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے 32 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے مغربی علاقوں میں مون سون کی طوفانی بارشوں کے بعد مٹی کے تودے گرنے سے 32 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور ایک ہزار سے زیادہ سیلاب میں گھرکررہ گئے ہیں۔

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے ضلع ریجاڈ میں مٹی کے تین تودے گرنے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ڈسٹرکٹ کولیکٹر نضحی چودھری نے بتایا ہے کہ طوفانی بارشوں کے نتیجے میں سیلاب کے بعد بہت سے لوگ اپنے مکانوں یا شاہراہوں پر کھڑی بسوں کی چھتوں پر پھنس کررہ گئے تھے۔امدادی سرگرمیوں کے بعد انھیں وہاں سے محفوظ جگہوں پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدہ دار ساگر پاٹھک نے مذکورہ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اورکہا ہے کہ مٹی کے تودے گرنے کے بعد سے مزید 30 افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔

دریں اثناءپریس ٹرسٹ آف انڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ممبئی کے مشرقی علاقے شیواجی نگر میں شدید بارشوں کے بعد ایک مکان منہدم ہوگیا ہے جس سے دو افراد ہلاک اورآٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ضلع رتناگری کے پہاڑی علاقے میں سیلاب میں پھنسے ہوئے 200 افراد کو نکال لیا گیا ہے۔

اسی ضلع میں واقع ساحلی قصبے چھپلون کی نصف سے زیادہ آبادی سیلاب میں پھنس کررہ گئی ہے۔اس قصبے کی آبادی 70 ہزار سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہے۔ضلع رتناگری کے منتظم بی این پاٹیل نے سیلاب میں گھرے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے فوج ، ساحلی محافظوں اورنیشنل ڈیزاسسٹر ریسپانس فورس کی مدد طلب کر لی ہے۔

بھارتی بحریہ نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ہیلی کاپٹر، کشتیاں اور ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔

حکام نے جنوبی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں شدید بارشوں کے بعد الرٹ جاری کردیا ہے۔بھارت کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس ماہ شہر میں 30 سینٹی میٹربارش ہوچکی ہے۔گذشتہ دس سال کے بعد پہلی مرتبہ جولائی میں اتنی زیادہ بارش ہوئی ہے۔

گذشتہ اختتام ہفتہ پرممبئی اور اس کے نواحی علاقوں میں بارشوں کے بعد مٹی کے تودے گرنے سے 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ بھارت میں ہر سال ہی جون سے ستمبر تک مون سون کے موسم میں طوفانی بارشوں اورسیلاب سے بیسیوں افراد ہلاک اور سیکڑوں بے گھر ہوجاتے ہیں۔