.

یواین سلامتی کونسل نے ترک صدرایردوآن کے قبرص سے متعلق مؤقف کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے قبرص کے بارے میں نئے مؤقف کی مذمت کردی ہے۔

ترک صدر نے قبرص کے دوریاستی حل پر زوردیا ہے اور یونانی قبرصیوں کے خالی کردہ ایک ریزارٹ کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے لیکن سلامتی کونسل نے ان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے تنازع کے دوعلاقائی وفاق کے ساتھ متحدہ ملک کے قیام اور اسی منصفانہ حل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

پندرہ رکنی کونسل نے جمعہ کوایک بیان میں کہا ہے: ’’سلامتی کونسل اس امرپرزوردیتی ہے کہ اس کی قراردادوں کے منافی مزید ایسے یک طرفہ اقدامات سے گریز کیا جائے جن کی وجہ سے اس جزیرے میں کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہو اور ایک منصفانہ حل کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔‘‘

اس نے مزید کہا ہے کہ ’’سلامتی کونسل اپنی ماضی کی قراردادوں اور بیانات کے منافی تمام یک طرفہ اقدامات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ترکی اوریونان کے درمیان قبرص پرگذشتہ قریباً پانچ عشروں سے تنازع چلا آرہاہے۔قبرص 1974ء میں دو حصوں، یونانی او ترک قبرص میں منقسم ہوگیا تھا۔تب یونان میں فوجی رجیم نے قبرص میں حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔اس کے ردعمل میں ترکی نے اپنی فوج قبرص میں اتار دی تھی اور پھرقبرص نسلی بنیاد پردو حصوں( ترک اور یونانی قبرص) میں تقسیم ہوگیا تھا۔ترک قبرص ترکی کے زیرانتظام ہے۔