.

امریکا کا چین کو ایرانی تیل کی فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکاچین کو ایرانی تیل کی فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن پرغور کر رہا ہے اور وہ اس امکان کو عملی جامہ پہننانے کو تیار ہے کہ ایران اگر ویانا میں تعطل کا شکار جوہری مذاکرات میں جلد نہیں لوٹتا تو اس کے خلاف سخت اقدامات کرسکتا ہے۔

یہ بات امریکا کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے کہی ہے۔ان صاحب کا کہنا ہے کہ امریکا نے رواں سال کے اوائل میں چین کو باور کرادیاتھا کہ اس کا بنیادی مقصد 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی اور ایران سے اس کی تعمیل کرانا ہے۔اگر ایران جوہری سمجھوتے میں لوٹ آتا ہے تو پھرایران پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی مرتکب چینی فرموں کو سزا دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس وقت ایران کی ویانا میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں دوبارہ لوٹنے سے متعلق غیریقینی کی صورت حال پائی جارہی ہے اورامریکا اپنے روایتی حریف ایران کو مذاکرات کی میزپر لانے کے لیے چین کو ایرانی تیل کی فروخت کے خلاف نئی قدغنیں عاید کرنے پر غور کررہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکومت کے ترجمان نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ نومنتخب صدرابراہیم رئیسی کی 5 اگست کو حلف برداری کے بعد ہی مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوسکتا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان اپریل سے جاری بالواسطہ مذاکرات 20 جون کو معطل ہوگئے تھے۔ابھی طرفین کی جانب سے ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے کہ یہ مذاکرات کب بحال ہوں گے۔اس امریکی عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ایران اپنے ارادوں کے بارے میں ہمیشہ سے ’’بہت مشکوک‘‘رہا ہے۔

اس عہدہ دار نے رواں ہفتے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ اگر ہم جوہری سمجھوتے (جے سی پی او اے) میں واپس آجاتے ہیں تو پھر چین کی ایرانی تیل درآمد کرنے والی کمپنیوں کو کسی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔‘‘

امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل نے اس سال کے اوائل میں سب سے پہلے خبردی تھی کہ واشنگٹن ایران کے خلاف اپنی پابندیوں کے سخت نفاذ پرغور کر رہا ہے اوروہ بالخصوص چین کے خلاف ان پابندیوں پر عمل درآمد چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ چین کے تیل صاف کرنے کے کارخانے ایرانی تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندگان ہیں۔ڈیٹا انٹیلی جنس فرم کے پلر کے مطابق رواں سال ماہانہ بنیادپر چین کی ایرانی خام تیل کی درآمدات اوسطاً 4 لاکھ سے 6 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ کے درمیان رہی ہیں اور اس کا حجم مئی میں قریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گیا تھا۔

رائٹرز نے جمعرات کو خبر دی تھی کہ چین کی لاجسٹک فرم چائنا کونکورڈ پیٹرولیم کمپنی ایران اور وینزویلا سے منظورشدہ تیل کی سب سے بڑی خریدار ہے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے تجزیہ کار رابرٹ آئن ہارن کا کہنا ہے کہ امریکی حکام چین کے خلاف ممکنہ کریک ڈاؤن کا اشارہ دے رہے ہیں۔یہ ایک پوشیدہ دھمکی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ واشنگٹن کے پاس تہران کو راہ راست پر لانے کے مختلف طریقے ہیں۔امریکا شاید ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی کو یہ اشارہ دینا چاہتا ہے کہ اگر ایرانی جوہری سمجھوتے میں واپسی میں سنجیدہ نہیں تواس کے پاس اختیارات ہیں اور پھر ایران کو اس کی قیمت چکاناپڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ،جس کے واشنگٹن کے ساتھ انسانی حقوق سے لے کر بحیرہ جنوبی چین تک کے معاملات پر تعلقات کشیدہ ہیں،اب اس کا ردعمل دیکھنا ہوگا کہ وہ مذاکرات میں تعطل پرایران یا امریکا میں سے کس کو موردالزام ٹھہراتا ہے۔