.

طالبان نے امریکی فوج کے مقامی ترجمان کا سرقلم کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان نے ایک افغان مترجم کو امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے کی پاداش میں قتل کر دیا۔

سی ای این این کے مطابق یہ واقعہ 12 مئی کا ہے جب 32 سالہ سہیل پردیس کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سے خوست کے علاقے میں اپنی بہن کو لینے گیا تھا۔

پانچ گھنٹوں کے اس سفر کے دوران جب 32 سالہ پردیس صحرا کے پار جارہا تھا کہ طالبان کے بندوق برداروں نے ایک چوکی پر اس کی گاڑی کو روکا۔ اس دوران انہوں نے وہاں گاڑی کو تیزی سے بھگانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اس کے بعد طالبان نے گاڑی پر فائرنگ کی اور سہیل پردیس کو گاڑی سے اتار کر گولیاں مارکر قتل کر دیا۔

تاہم ہلال احمر نے عینی شاہدین کےحوالے سے بتایا ہے کہ طالبان نے ان کی کار پر گولی چلائی جس کی وجہ سے کار رک گئی۔ اس کے بعد طالبان شدت پسندوں اسے گھسیٹ کر باہر نکالا اور اس کا سر کاٹ دیا۔

ایک دوست اور ساتھی کارکن نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ پردیس نے اپنی موت سے چند دن پہلے ہی انہیں بتایا تھا کہ انہیں طالبان کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ یہ دھمکیاں اس وقت ملنا شروع ہوئیں جب پتا چلا کہ سہیل 16 ماہ سے امریکی فوج کے ترجمان کے طور پر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وہ اسے بتا رہے تھے کہ آپ امریکیوں کے جاسوس ہیں۔ آپ امریکیوں کی نگاہ ہیں اور ہم آپ کو اور آپ کے کنبہ کو قتل کر دیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے طالبان کی نشانہ بنانے اور امریکی ترجمان کے ساتھ کام کرنے والے افغان مترجموں پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔