.

کینیا میں 10 بچوں کو قتل کرکے ان کا خون پینے والا وحشی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیا میں ایک عجیب اور ناقابل یقین واقعے نے سوشل میڈیا پر غم و غصہ کی لہر دوڑا دی۔

کینیا کی پولیس نے "انسانی خون پینے والا" ایک شخص گرفتار کیا ہے ، جس نے 10 بچوں کو ہلاک کرنے اور ان کا خون پینے کا اعتراف کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کینیا کے فوجداری انویسٹی گیشن ڈائریکٹوریٹ نے بتایا ہے کہ 20 سالہ نوجوان مسٹن میمو وانگالا کو دو بچوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان بچوں کی لاشیں دارالحکومت نیروبی کے جنگلات سے ملی ہیں۔

تفتیش کے دوران پتا چلا کہ ملزم دو نہیں بلکہ 10 بچوں کو قتل کرکے ان کا خون پی چکا ہے۔ بچوں کا قایل یہ جرم پانچ سال قبل سے کرتا آ رہا ہے جب اس کی عمر 16سال تھی۔ اس واقعے نے مشہور افسانوی کردار’ڈریکولا‘ کی یاد تازہ کردی۔

کینیا سے تعلق رکھنے والے اس مجرم نے 10 بچوں کو ہلاک کرنے اور ان کا خون پینے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ اس کے اعترافات نے مقامی اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب 13 سالہ جونیئر موٹوکو میوسوکا اور 12 چارلس اوبینڈو بالا کی مسخ شدہ لاشیں ایک جنگل سے ملیں۔ ملزم نے اعتراف جرم کیا ہے مگر اپنے جرم پر کسی قسم کی ندامت اور شرمندی کا اظہار نہیں کیا۔