.

ایران:پانی بحران پرمظاہرے تہران تک پھیل گئے،رہبرِاعلیٰ کے خلاف نعرے بازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صوبہ خوزستان میں گذشتہ ہفتے قلّتِ آب کے بحران پر شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے دارالحکومت تہران تک پھیل گئے ہیں اور مظاہرین نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے۔

سوشل میڈیا پرسوموار کوان مظاہروں کی نئی ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی ہیں۔ان میں مظاہرین ’’مرگ برآمر‘‘کے نعرے لگا رہے ہیں۔ایران میں حکومت مخالف احتجاجی ریلیوں میں اکثر یہ نعرہ سنائی دیتا ہے اور آمر سے مراد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہوتے ہیں۔

نئی احتجاجی ریلیوں میں مظاہرین نے ایران کی خارجہ پالیسی کی مخالفت میں بھی نعرے بازی کی ہے۔ایک ویڈیو میں انھیں یہ نعرہ لگاتے ہوئے سنا جاسکتا ہے:’’غزہ یا لبنان کے لیے نہیں، میں نے ایران کے لیے اپنی زندگی قربان کی ہے۔‘‘اس میں ایران کی جانب سے غزہ میں فلسطینی تنظیم حماس اور لبنان میں حزب اللہ کی حمایت کا حوالہ تھا۔

ایران کے خشک سالی کا شکار صوبہ خوزستان میں قلّت آب کے خلاف 15جولائی سے احتجاجی تحریک جاری ہے،اس کے حق میں اب دوسرے صوبوں میں بھی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔گذشتہ جمعرات کواس کے پڑوس میں واقع صوبہ لورستان میں واقع شہر علی گدرذ میں مظاہرے کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

ہفتے کے روز ایران کے شمال مغربی صوبہ مشرقی آذربائیجان کے دارالحکومت تبریز میں خوزستان میں مظاہرین کے حق میں ریلیاں نکالی گئی تھیں۔

ایرانی حکومت نے ان احتجاجی مظاہروں میں اب تک ایک پولیس افسر سمیت پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ایرانی حکام نے نامعلوم ’’بلوائیوں‘‘ پران ہلاکتوں کا الزام عاید کیا ہے جبکہ سیاسی کارکنان نے اس سرکاری بیانیے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ ایرانی حکام مظاہرین کے لیے ’بلوائی‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

ایران کی انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ اس نے خوزستان کے تعلق سے مظاہروں میں10 مہلوکین کی شناخت کی تصدیق کی ہے اور 102 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سے ایک روز پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے خوزستان میں 15 جولائی کو مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے آٹھ مظاہرین کو ہلاک کردیا ہے۔

واضح رہے کہ عرب اکثریتی صوبہ خوزستان میں پانی کابحران شدت اختیار کرچکا ہے اور زرعی فصلوں اور گلہ بانی کے لیے بھی مطلوبہ مقدار میں پانی دستیاب نہیں ہے۔اس صوبہ کے مختلف شہروں میں گذشتہ ایک ماہ سے قلتِ آب کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

ایرانی حکام خشک سالی کو پانی کی قلت کا سبب قرار دیتے ہیں جبکہ مظاہرین حکومت کو اس کا موردالزام ٹھہراتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی امتیازی پالیسیوں کے نتیجے میں پانی کا بحران پیدا ہوا ہے کیونکہ اس نے خوزستان کے حصے کے پانی کا رُخ فارسی نسل کی آبادی والے صوبوں کی جانب موڑدیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کوخوزستان میں مظاہروں کے ردعمل میں اپنا پہلا بیان جاری کیا تھااورکہا تھا کہ اس پر مظاہرین کوموردالزام ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔انھوں نے حکام پرزوردیا تھا کہ وہ پانی کی قلّت کے بحران پرقابوپانے کے لیے اقدامات کریں۔