.

اٹھارہ سال بعد امریکہ کا عراق میں اپنا فوجی کردار ختم کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے عراق میں اپنے فوجیوں کا جنگی کردار ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نئے دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔

صدر بائیڈن نے پیر کو عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی سے بات چیت کے دوران کہا کہ امریکی فوجیوں کا عراق میں جنگی کردار رواں سال کے آخر تک ختم ہو جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ عراق میں داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کے خطرے اور ایران کے بھرپور اثر کے پیش نظر امریکہ ’سکیورٹی تعاون‘ جاری رکھے گا جبکہ مصطفیٰ الکاظمی نے اس موقعے پر ’سٹرٹیجک شراکت داری‘ کی یقین دہانی کرائی۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکی فوجی عراق میں ’تربیت، مدد اور داعش کے سر اٹھانے پر اس سے نمٹنے کے لیے موجود ہوں گے۔‘

تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ عراق میں موجود 2500 امریکی فوجی لڑیں گے نہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ اور عراق نے اپریل میں اتفاق کیا تھا کہ امریکہ کے ’ٹرین اینڈ ایڈوائس مشن‘ کا مطلب ہے کہ امریکی جنگی کردار ختم ہو جائے گا لیکن دونوں ممالک کے درمیان جنگی مشن کے مشاورتی مشن میں تبدیلی کے لیے کوئی ’ٹائم ٹیبل‘ طے نہیں ہوا تھا۔

یہ اعلان 10 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے تین ماہ سے بھی کم عرصہ پہلے سامنے آیا۔

عراقی وزیر اعظم الکاظمی کے لیے پریشانیوں کی کمی نہیں۔ عراق کے اندر سرگرم ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حالیہ مہینوں میں امریکی افواج کے خلاف حملوں میں تیزی لائی ہے اور کئی ہسپتالوں میں لگنے والی تباہ کن آگ نے درجنوں افراد کی جان لے لی ہے۔

اس سب کے علاوہ کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز نے لوگوں کی مایوسی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

الکاظمی کے لیے عراقی عوام کو امریکہ کے جنگی کردار کے خاتمے کی تاریخ دینا انتخابات سے قبل سیاسی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا میں عراق کی ساکھ اور اس کے موقف کو بہتر بنانے کا سہرا الکاظمی کے سر ہے۔

مصطفى الكاظمي
مصطفى الكاظمي

امریکہ کے دورہ پر موجود عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی کا اس سے قبل کہنا تھا کہ ’عراقی سرزمین پر کسی غیر ملکی جنگی افواج کی ضرورت نہیں۔‘

عراق میں جنگی مشن کے خاتمے کا اعلان ایسے وقت کیا گیا جب امریکہ، افغانستان میں 20 سال سے جاری جنگی مشن کے خاتمے کے آخری مراحل میں ہے۔

گذشتہ ماہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور مصر کے صدر عبدالفتح السیسی مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے بغداد آئے تھے۔ یہ مصری صدر کا عراق کا 1990 کے بعد پہلا سرکاری دورہ تھا۔

عراق میں امریکی فوجی ۔ فائل فوٹو
عراق میں امریکی فوجی ۔ فائل فوٹو

دونوں ممالک کے درمیان اس سے قبل صدام حسین کے دور میں دوستانہ تعلقات پیدا ہوئے تھے۔ صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تھا۔

مارچ میں پوپ فرانسس نے عراق کا تاریخی دورہ کیا تھا اور موصل میں تباہ ہوجانے والے گرجا گھروں میں دعا کی تھی۔

یہ علاقہ کبھی داعش کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ پوپ نے بااثر شیعہ مبلغ اعلی آیت اللہ علی سیستانی سے شہر نجف میں ملاقات کی تھی۔