.

عراقی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں امریکی صدر کے ہاتھ میں موجود "پراسرار پرچہ"؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیر اعظم مصطفى الكاظمی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بائیڈن کے ہاتھ میں ایک پرچہ تھا جس کو وہاں موجود کیمرہ مینوں نے اپنے عدسے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا۔ پرچے پر دو عبارتیں تحریر تھیں :

US prepares to respond to attacks اور Iran considering of holding back attacks

بظاہر لگتا ہے کہ اس ملاقات میں بائیڈن اور کاظمی کی بات چیت محور ایران تھا۔ یہ موضوع اس وقت اہمیت کا حامل ہے بالخصوص جب کہ بائیڈن نے پیر کے روز عراق میں امریکیوں کا "لڑائی کا مشن" ختم ہونے اور عسکری تعاون کا "نیا مرحلہ" شروع ہنے کا اعلان کر دیا۔ یہ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے 18 برس بعد سامنے آنے والا اقدام ہے۔

US prepares to respond to attacks /Iran considering of holding back attacks
US prepares to respond to attacks /Iran considering of holding back attacks

امریکی صدر اس سے قبل کئی مواقع پر ہاتھ میں پرچہ یا نوٹس تھامے ہوئے نظر آ چکے ہیں۔ ریپبلکنز اور قدامت پسند ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایسے مواقع سے فائدہ اٹھا کر یہ دعوی کیا جاتا رہا ہے کہ صدر بائیڈن کی یادداشت کمزور اور ان کی ذہی صلاحیت کم ہو چکی ہے۔

ریپبلکن رکن کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے سابق طبیب رونی جانسن نے جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا (MoCA) کا جائزہ کروا لیں۔ یہ 30 پوائنٹس کا ایک ٹیسٹ ہوتا ہے جو عمر کے لحاظ سے یادداشت کی کمزوری کو جانچتا ہے۔

البتہ برطانوی اخبار گارڈین کا کہنا ہے کہ امریکی صدور کی جانب سے نوٹس کی تیاری اور پریس کانفرنس میں انہیں دیکھ کر پڑھنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اخبار کے مطابق ان صدور میں باراک اوباما اور جان کینیڈی شامل ہیں جو خطاب کرنے کی صلاحیتوں کے حوالے سے معروف رہے ہیں۔