.

کووِڈ-19: جی سی سی کی معیشتیں ترقی کی جانب گامزن،سعودی عرب کی شرح نمو4 فی صد متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کی معیشتیں کووِڈ-19 کے منفی اثرات سے بتدریج نکل رہی ہیں۔اب وہ ترقی کی جانب گامزن ہورہی ہیں اور اس سال کے دوران میں ان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3 فی صد کے حساب سے شرح نمو متوقع ہے۔

خطے کی دوبڑی معیشتوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جی ڈی پی میں آیندہ سال کے دوران میں 4 فی صد کے حساب سے بڑھوتری کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔

گذشتہ سال کووِڈ-19 کی وبا پھیلنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی جس کی وجہ سے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ذرائع آمدن اور معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔اب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ، یو اے ای اور کویت کو تیل کی پیداوار میں اضافے سے متعلق اوپیک پلس ممالک کے درمیان حال ہی میں طے شدہ سمجھوتے سے فائدہ پہنچے گا۔

ابوظبی کمرشل بنک میں تعینات چیف اکانومسٹ مونیکا مالک کا کہنا ہے:’’ہمارا مفروضہ یہ تھا کہ طویل مدت کے لیے ڈیل طے پاجائے گی اور ہم معیاری پیداواری (بیس لائن) ایڈجسٹمنٹ کی بنیادپر2022ء کی پیشین گوئی کرسکیں گے۔اس کی بنیاد پر مئی 2022ء سے یو اے ای ، کویت اور سعودی عرب تیل کی پیداوار میں اضافہ کرسکیں گے اور عالمی مارکیٹ میں اپنا اپنا حصہ بھی بڑھاسکیں گے۔‘‘

میڈینز کے 5 سے 26 جولائی تک ایک سروے کے مطابق سعودی عرب کی جی ڈی پی کی اس سال شرح نمو2۰3 فی صد رہے گی۔تین ماہ قبل اسی طرح کے پول میں سعودی معیشت کی شرح نمو 2۰4 فی صد رہنے کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔

2022ء میں مشرق اوسط کی سب سے بڑی معیشت اور دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب کی مجموعی داخلی پیداوار کی شرح بڑھ کر 4۰3فی صد ہوجائے گی۔

یواے ای کی قومی معیشت کی اس سال شرح نمو 2۰3 فی صد رہے گی،آیندہ سال یہ بڑھ کر 4۰2 فی صد ہوجائے گی اور 2023ء میں گھٹ کر 3۰4 فی صد رہے گی۔اسی طرح کویت کی جی ڈی پی میں 2021ءمیں 2۰4 فی صد کے حساب سے اضافہ ہوگا،آیندہ سال یہ شرح 4۰6 فی صد ہوجائے گی اور 2023ء میں یہ شرح کم ہوکر 3۰0 فی صد رہے گی۔

موڈیز نے گذشتہ ماہ ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ’’جی سی سی کی ریاستوں کو کم وبیش نصف آمدن تیل اورگیس کی برآمدات سے حاصل ہوتی ہے۔ان کے اپنی اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے ہدف میں ابھی کئی سال لگیں گے اور مالیاتی تنوع کے ہدف کے حصول میں بھی مزید وقت درکارہوگا۔