.

یواےای انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے انٹرپول کے آپریشن میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات دنیا بھر میں بین الاقوامی پولیس ایجنسی (انٹرپول) کے تحت انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے ’آپریشن لبرٹیرا‘ میں شامل ہوگیا ہے۔اس سے پہلے اس آپریشن میں سینتالیس ممالک شریک تھے۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن کی بیرون ملک منتقلی اور انسانی اسمگلنگ کا دھندا کرنے والے اسمگلروں اور گینگ کے خلاف یہ مشترکہ بین الاقوامی کارروائی اس ماہ کے اوائل میں شروع کی گئی تھی۔اس کے نتیجے میں اب تک دنیا بھر میں 286 افرادکو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں سے 12کی گرفتاری یواے ای میں عمل میں آئی ہے۔

یواے ای کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس عالمی کارروائی میں انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والے 430 متاثرین اور چارہزار غیرقانونی تارکین وطن کو بچا لیا گیا ہے۔

انٹرپول نے بتایا ہے کہ مختلف ممالک سے قانون نافذکرنے والے اداروں کے حکام نے 5 سے 9 جولائی تک آپریشن لبرٹیرا میں حصہ لیا ہے۔انھوں نے چیک پوائنٹس اور ہوائی اڈوں پر معائنے کی قریباً پانچ لاکھ کارروائیاں کی ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے انٹیلی جنس اور تحقیقات کی مدد سے انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی نشان زد جگہوں پر بھی چھاپا مار کارروائیاں کی ہیں۔

یواے ای کی ایجنسیوں نے اس آپریشن کے متوازی انسانی اسمگلنگ سے متعلق شعوراجاگرکرنے کے لیے آگہی کی ایک مہم بھی شروع کی ہے۔اس میں سیاحتی عملہ ،پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں ، صنعتی علاقوں کے ورکروں ،گھریلو ورکروں اور بھرتی دفاتر کو انسانی اسمگلنگ کے مختلف طریقوں،شکلوں اور ذرائع کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ یواے ای خطے کا پہلا ملک ہے جس نے 2006ء میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق ایک جامع قانون کی منظوری دی تھی۔

امارات کی وزارت داخلہ کے اعلیٰ عہدہ دار لیفٹیننٹ کرنل دانا حمید کا کہنا ہے کہ ’’انسانی اسمگلنگ اس وقت دنیا کے ممالک کے لیے سکیورٹی کا ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔منظم جرائم پیشہ گروپوں کی قیادت میں یہ اب اربوں ڈالرمالیت کی صنعت کا روپ دھار چکی ہے۔‘‘

بین الاقوامی پولیس ایجنسی کی انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کاوشوں کو مربوط بنانے اور معلومات کے تبادلے کی غرض سے لیون، پاناما، خرطوم اور ابوظبی میں چار بین الاقوامی آپریشنز رومز قائم کیے گئے ہیں۔انٹرپول کے تحت یہ آپریشن اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم، یوروپول ،بین الاقوامی تنظیم برائے تارکین وطن اور ریجنل آپریشن سنٹرخرطوم کے ساتھ تعاون سے کیا جارہا ہے۔
انٹرپول کے سیکریٹری جنرل یورگین اسٹاک نے اس آپریشن میں شامل ممالک کے کردار کو سراہا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’آپریشن لبرٹیراعالمی سطح پر انسانی اسمگلنگ کا پانچ روزہ خاکا ہے۔اس سے یہ پتاچلتا ہے کہ کیسے انتہائی منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک صرف ایک ہی چیز پر اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں اور وہ ہے: نفع۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’اس کارروائی کے دوران میں 22 جرائم پیشہ گروپوں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے عالمی اداروں کی مربوط کارروائی سے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔‘‘