.

امریکی سیٹلائٹ نے چین کی مبینہ جوہری تنصیبات کا پتا چلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی تجزیہ کاروں کی جانب سے چین کے جوہری عزائم سے متعلق تجزیوں کے بعد امریکا کے ایک مصنوعی سیارے نے چین کے مبینہ جوہری مراکز کا پتا چلایا ہے۔

سیٹلائٹ کی مدد سے سامنے آنے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک امریکی تھنک ٹینک نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ سیٹلائٹ تصاویر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین جوہری میزائلوں کی لانچنگ کے لیے لانچنگ مراکز کا نیا نیٹ ورک بنا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فیڈریشن آف امریکن سائنٹس کے دو محققین نے پیر کو ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ انہوں نے کمرشل سیٹلائٹ کی تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد سنکیانگ کے شمال مغربی سرحدی علاقے میں میزائل سائلو فیلڈ کی تعمیر کے لیے جاری کوششوں کو حقیقت پرمبنی قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تصاویر میں گرڈ پیٹرن میں ایک دوسرے سے تقریبا 1.9 میل کے فاصلے پر طول و عرض کے ساتھ سائلو بنانے کے لیے 14 سائٹیں دکھائی گئیں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس ایسی پناہ گاہیں ہیں جو ان کی حفاظت کی خاطر بنائی گیی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعمیراتی کام کی تیاری کے لیے 19 دیگر مقامات پر مٹی صاف کرنے کا کام جاری ہے۔

ایک اور تھنک ٹینک کے ماہرین نے بتایا کہ انہیں چین میں جوہری تنصیبات کی نشانیوں کا پتہ چل گیا ہے۔ اس کے علاوہ کمرشل سٹیلائٹ کی تصاویرسے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چین شمال مغربی صوبے گانسو کے شہر یومین کے قریب 120 میزائل تنصیبات پر مشتمل ایک فیلڈ بنا رہا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جولائی کے شروع میں شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ چین ہر وہ کام کررہا ہے جو امریکا کررہا ہے۔ حتیٰ کہ چین جوہری بٹن یعنی جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی مصروف ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین بین البراعظمی بیلسٹک میزئلوں کو چھپانے کے لئے 100 سے زیادہ "تنصیبات"پر مشتمل پلیٹ فارمز کا نیٹ ورک تعمیر کررہا ہے۔ یہ نیٹ ورک شمالی چین کے صوبہ گانسو کے یومن شہر کے قریب صحرا میں واقع ہے اور اس کی تصاویر بھی سیٹلائٹس کی مدد سے سامنے آ چکی ہیں۔