.

حماس کے لیے جاسوسی کے الزام میں اخوان قیادت کو حتمی عمرقید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اپیل عدالت نے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی زیر حراست قیادت کو فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کے لیے جاسوسی کے الزام میں دی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے سابقہ سزا برقرار رکھی ہے۔

مصری اپیل عدالت کی طرف سے اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع، ان کے نائب خیرت الشاطر اور کئی دوسرے رہ نماؤں کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ اسی کیس میں جماعت کے رہ نما عصام العریان کی فوتگی کی وجہ سے ان کا کیس خارج کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مصر کی ایک فوجی عدالت نے 11 ستمبر 2019ء کو حماس کے لیے جاسوسی کے الزام میں اخوان المسلمون کے مرشد عام سمیت 11 رہ نماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ جاسوسی کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والوں میں محمد بدیع عبدالمجید، محمد خیرت الشاطر، سعد توفیق الکتاتنی، عصام العریان، محمد البلتاجی، سعد عصمت الحسینی، حازم فاروق عبدالخالق، محیی احمد السید، خالد سعد حسنین، خلیل اسامہ العقید اور احمد عبدالعاطی شامل ہیں۔

اسی کیس میں اخوان رہ نماؤٌں عصام الحداد، ایم علی سید اور احمد محمد الحکیم کو 10 سال قید، محمد رفاعہ الطھطاوی ، اسعد الشیخہ کو سات قید کی سزا سنائی گئی۔ کیس میں صفت الحجازی، حسن خیرت الشاطر، عید محمد اسماعیل دحروج، ابراہیم خلیل الدراوی، کمال السید محمد، سامی امین حسین السید اور جہاد عصام الحداد کو بری کردیا گیا۔