.

ویکسین کی تقسیم سے سعودی اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہوا: آئی ایم ایف عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی مانیٹری فنڈ ’آئی ایم ایف‘ نے سعودی عرب میں کرونا کے خلاف ویکسی نیشن مہم کے ملک کی معیشت پر مرتب ہونے والےمثبت اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کے خلاف سعودی عرب کی پالیسی نے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات ڈالے ہیں۔

آئی ایم ایف کی ایک سینیر خاتون عہدیدار اور اقتصادی امور کی ماہر گیٹا گوپی ناتھ نے ’العربیہ‘ چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب کی تیل کے سوا دوسرے شعبوں میں شرح نمو میں تین فی صد اضافہ ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں اقتصادی ترقی کے دو اہم عوامل ہیں۔ پہلا اہم محرک تیل کے سوا دوسرے شعبوں کی ترقی اور تیل پر معاشی انحصار کم کرنا اور دوسرا عامل کرونا وبا کی روک تھام کے لیے بروقت وافر مقدار میں شہریوں میں ویکسین لگوانا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں آئی ایم ایف عہدیدار نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر ویکسین نیشن مہم میں بہت بڑا خلا ہے۔ ایک طرف بعض ممالک نے 100 فی صد ویکسین لگوا لی ہے جب کہ بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں صرف دو فی صد ویکسین لگائی گئی ہے۔

مسز گوپی ناتھ نے مزید کہا کہ مانیٹری فنڈ کی عالمی معیشت سے متعلق سالانہ رپورٹ کے چھ فی صد معاشی بحالی کی توقع ظاہر کی گئی ہے، لیکن ابھرتی ہوئی معیشتوں میں کمی کےمقابلے میں عالمی نمو کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ فرق ترقی یافتہ اور کم آمدنی والے ممالک کے درمیان ویکسین کی تقسیم کے مسئلے پر ہے۔ مثال کے طور پر افریقہ میں ویکسین کی تقسیم کی شرح کچھ ممالک کی کل آبادی کے 2 فی صد سےزیادہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ براعظم ایشیاء کو وبائی امراض کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ممالک نمو کی تخمینے میں تبدیلی سے متاثر ہوئے لیکن ان تبدیلیوں نے کچھ ترقی یافتہ معیشتوں کو بھی متاثر کیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کچھ ترقی یافتہ ممالک بڑی تعداد میں لوگ وبا کا شکار ہوئے ہیں مگر بیماری کے پھیلاؤ کے باوجود اسپتالوں میں بہت کم لوگ داخل ہوئے۔

آئی ایم ایف کے ایک بلاگ میں گوپی ناتھ نے متنبہ کیا ہے کہ انتہائی متعدی بیماری کے ظہور کے بعد 2025 تک عالمی معیشت کو ساڑھے چار ارب ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔