.

ٹرمپ کے دامادکوشنر اب اسرائیل میں سرمایہ لگائیں گے اوردولت کمائیں گے،سیاست خیرباد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اورمشیراعلیٰ جیرڈ کوشنر آیندہ مہینوں میں ایک سرمایہ کاری فرم شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مستقبل قریب میں انھوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وہ وائٹ ہاؤس میں سابق ری پبلکن صدر کے سینئر مشیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس سے پہلے وہ کوشنرکمپنیز کے سابق چیف ایگزیکٹو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اب وہ افینٹی پارٹنرز کے نام سے انوسیٹمنٹ فرم شروع کرنے کے آخری مراحل میں ہیں۔اس نئی فرم کا صدر دفتر میامی میں ہوگا۔

جیرڈکوشنرسابق صدرٹرمپ کی بیٹی ایفانکا کے خاوند ہیں۔وہ اسرائیلی معیشت میں بھارت، شمالی افریقا اور خلیج سے سرمایہ کاری کے لیے اسرائیل میں ایک علاقائی دفتر کھولنے کے خواہاں ہیں۔ ان کے قریبی دوافراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پراس منصوبے کے بارے میں بتایا ہے۔

ان ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ فرم ابھی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے۔کوشنرنے گذشتہ چھ ماہ میامی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارے ہیں۔اس دوران میں انھوں نے وائٹ ہاؤس میں اپنے تجربات کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب توقع ہے کہ آیندہ سال کے اوائل میں شائع ہوگی۔

واضح رہے کہ کوشنرنے گذشتہ سال صدر ٹرمپ کے اقتدار کے آخری چھے ماہ کے دوران میں اسرائیل کے متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدوں میں اہم کردارادا کیا تھا۔انھوں نے ان ممالک کے حکام کے ساتھ بات چیت کے بعد ان امن معاہدوں کی راہ ہموار کی تھی۔انھوں نے امریکاکے میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر بات چیت میں بھی معاونت کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کوشنر اپنے سسر کے قریب خیال کیے جاتےہیں لیکن نجی شعبے میں دوبارہ مصروف ہونے کے بعد وہ مستقبل قریب میں سیاست سے دستبردار جائیں گے۔ کوشنر اوران کا خاندان موسم گرما نیوجرسی میں واقع بیڈمنسٹر میں ٹرمپ کی گالف پراپرٹی میں گزار رہا ہے اور وہ ٹرمپ کے ہمسائے میں رہ رہے ہیں۔

سابق صدر کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ 2024ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ری پبلکن پارٹی کی طرف سے ایک اور نامزدگی کے حصول پرغور کررہے ہیں لیکن فی الوقت ری پبلکن پارٹی ٹرمپ کے حامیوں کے 6 جنوری کو کیپٹول کی عمارت پر حملے اور خود سابق صدر کے گذشتہ سال نومبر میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں جیت سے متعلق جھوٹے دعووں پر دو دھڑوں میں منقسم ہے۔ایک دھڑا ان کا حامی ہے تو دوسرا مخالف ہے۔