.

اسرائیل اور یواے ای کے درمیان گردے کے تبادلے اور پیوندکاری کا تاریخی آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی عورت کے عطیہ کردہ گردہ کوتل ابیب سے ایک خصوصی چارٹرپرواز کے ذریعے متحدہ عرب امارات پہنچایا گیاہے۔اس کے تبادلے میں وہاں سے ایک صحت مند شخص سے گردہ حاصل کیا گیا ہے۔گردے کے تبادلے اور پیوندکاری کا یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔

اسرائیلی کے شیبا میڈیکل سنٹر میں سرجنوں نے 39 سالہ شانی مارکووٹزمانشرکا گردہ نکالا تھا۔اس کو یخ بستہ برفیلے صندوق میں رکھ کر ساڑھے تین گھنٹے کی پرواز کے بعد یواے ای کے دارالحکومت ابوظبی پہنچایا گیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان اعضاء کے تبادلے کے پروگرام کے تحت اب شانی مانشر کی والدہ کو یواے ای میں ایک شخص کا عطیہ کردہ صحت مند گردہ لگایا جائے گا گردے کی پیوندکاری کے لیے انھیں اسی ہفتے شیبا میڈیکل سنٹر میں داخل کیا گیا ہے۔

اسرائیل کے سب سے بڑے اسپتال شیبامیڈیکل سنٹر میں پیوندکاری مرکز کے سربراہ پروفیسرایٹن مور کا کہنا ہے کہ یہ سرجری کامیاب رہی ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان زندگی بچانے والےاعضاء کے عطیات کی رہ ہموار ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے امارات اورابوظبی سے تعلق رکھنے والے اپنے ساتھیوں سے شانداراشتراک کا آغاز کیا ہے۔ہم نے چھے ماہ قبل تل ابیب میں یواے ای کی وزارت صحت کے نمائندے کے ساتھ اعضاء کی پیوند کاری کے شعبے میں اس ممکنہ اشتراک پر تبادلہ خیال کیا تھا۔اب چھے ماہ کے اندر ہم نے اسرائیل اورابوظبی کے درمیان اعضاء کے پہلے تبادلے کا عمل مکمل کرلیا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’مجھے امید ہے،اس سے دونوں ممالک کے درمیان طب کے دیگر شعبوں میں مزید اشتراک کا دروازہ کھلے گا۔یہ تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان اعضاء کے عطیہ کے وسیع پروگرام کا حصہ ہے اور آیندہ مہینوں میں ایسے مزید آپریشن ہوں گے۔‘‘

شیبا میڈیکل سینٹر، محکمہ صحت ابوظبی اور دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے درمیان اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طبی سیاحت کو فروغ دینے کے سمجھوتے پردست خط کیے گئے تھے۔اس کے تحت شیبا میڈیکل مرکز میں متحدہ عرب امارات کی سیکورٹی فورسز کے 300 مریضوں کا علاج کیا جائے گا اور اماراتی طبی عملہ کوتربیت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ یو ای اے اور اسرائیل کے درمیان معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں15 ستمبر2020ء کو معاہدہ ابراہیم طے پایا تھا۔اس کے بعد دونوں ملکوں میں صحت، ہوا بازی، سیاحت، غذائی تحفظ، زراعت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے متعدد سمجھوتے طے پاچکے ہیں۔

جولائی کے اوائل میں متحدہ عرب امارات نے تل ابیب میں اپنا پہلا سفارت خانہ باضابطہ طور پرکھولا تھا۔اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے یو اے ای کے اقدام کو مشرقِ اوسط کے مستقبل، امن،خوش حالی اور سلامتی کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا تھا۔گذشتہ ماہ اسرائیل کے نئے وزیرخارجہ یائرلاپیڈ نے بھی متحدہ عرب امارات کے دورے کے موقع پر ابوظبی میں اپنے ملک کے سفارت خانہ کا افتتاح کیا تھا۔