.

کووِڈ-19کے مریض صحت یابی کے 10دن بعد ویکسین لگواسکتے ہیں:سعودی وزارتِ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ افرادصحت یاب ہونے کے فوری بعد ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

وزارتِ صحت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ کووِڈ-19 کی ویکسین کی پہلی خوراک انفیکشن ہونے کے 10 روز بعد لگوائی جا سکتی ہے، طبّی مطالعات سے پتاچلا ہے کہ ایسا کرنا محفوظ ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ کروناوائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوانے والے شخص کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اوراس طرح وائرس کی نئی شدید قسموں سے بھی بچاجاسکتا ہے۔

محکمہ صحت کے حکام نے کرونا وائرس کی ڈیلٹا قسم پرتشویش کا اظہارکیا ہے۔وائرس کی اس قسم کی سب سے پہلے بھارت میں تشخیص ہوئی تھی۔مطالعات سے پتاچلا ہے کہ یہ شکل کووِڈ-19 کیاصل سے تین گنا زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔

وزارت صحت نے یہ نیا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب مملکت بھرمیں کرونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات پرعمل درآمد کیا جارہا ہے اور لوگوں کو بڑے پیمانے پر ویکسین لگائی جارہی ہے تاکہ مجموعی طور پر معاشرے کو اس وبا سے محفوظ کیا جاسکے۔

سعودی حکومت نے گذشتہ اتوار کو یکم اگست سے ویکسین نہ لگوانے والے افراد کے عوامی مقامات، سرکاری دفاتر اور جگہوں میں داخلے پر پابندی عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وزارت داخلہ کے مطابق تمام معاشی، تجارتی، ثقافتی، تفریحی اور کھیلوں کی سرگرمیاں صرف ان شہریوں اور رہائشیوں تک محدود ہوں گی جوکووڈ-19 کی کوئی منظورشدہ ویکسین لگواچکے ہوں گے۔کسی دفتر میں ملازم افراد کو ویکسین نہ لگوانے کی صورت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اب تک سعودی عرب نے ماڈرنا، فائزر،بائیواین ٹیک اور آکسفورڈ-آسٹرازینیکا کی ویکسین کی منظوری دی ہے۔ مملکت بھرمیں ویکسی نیشن کے 587 مراکزکام کررہے ہیں۔وہاں شہریوں اور مکینوں کو کووِڈ-19 کی ویکسینیں مفت لگائی جارہی ہیں۔گذشتہ سوموار تک سعودی عرب بھر میں ویکسین کی ڈھائی کروڑ سے زیادہ خوراکیں لگاچکی تھیں۔

ویکسین لگوانے کے لیے سعودی شہری اور تارکِ وطن وزارت صحت کی صحتی ایپ پر اپنے ناموں کا اندراج کرسکتے ہیں اور انھیں دستیاب ویکسینوں میں سے کسی ایک کے انجیکشن لگائے جارہے ہیں۔سعودی حکام نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کروناوائرس سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسین لگوائیں، بالخصوص جو افراد ازدحام یااجتماعات میں اپنا زیادہ وقت گزارتے ہیں،انھیں ضرور ویکسین لگوانی چاہیے۔