.

تُونس میں عوام کی غالب اکثریت صدرقیس سعیدکے فیصلوں کی حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُونس میں عوام کی غالب اکثریت نےصدرقیس سعیدکے حالیہ فیصلوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

تُونس میں ایک مارکیٹنگ ریسرچ فرم کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 87 فی صد افراد صدرقیس سعید کے پارلیمنٹ کو معطل کرنے اور وزیراعظم کو برطرف کرنے کے حالیہ فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔

امرہود کنسلٹنگ کے سروے کے نتائج کے مطابق صرف تین فی صد افراد نے ان کے فیصلے پراعتراض کیاہے۔یہ سروے 26 سے 28 جولائی تک تُونس کے متعدد شہروں میں کیا گیا تھا۔

تُونسی صدر نے گذشتہ اتوار کوملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے بعد ملک کی پارلیمنٹ کو ایک ماہ کے لیے معطل کردیا تھا اور وزیراعظم ہشام المشیشی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

صدر نے یہ اقدام وزیراعظم مشیشی کے ساتھ گذشتہ کئی ماہ سے مختلف امور پرجاری اختلافات کے بعد کیا تھا جبکہ تُونس مسلسل معاشی بحران کا شکار ہے اورحالیہ مہینوں میں کووِڈ کی بدترین وبا سے اس کو مہمیز ملی ہے۔شمالی افریقا میں واقع اس ملک میں حالیہ ہفتوں کے دوران میں کرونا وائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سروے کے مطابق تُونس کے 86 فی صد لوگوں نے پارلیمان کومنجمد کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے جبکہ صرف 6 فی صد نے اس کی مخالفت کی۔88 فی صد نے پارلیمنٹ کے اراکین کو ان کے استثنا سے محروم کرنے کے اقدام کی بھی حمایت کی جبکہ صرف 4 فی صد جواب دہندگان نے اس فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔

اس سروے سے پتا چلا ہے کہ تونس کے 84 فی صد لوگوں نے وزیراعظم مشیشی کی برطرفی حمایت کی جبکہ 6 فی صد جواب دہندگان نے صدر قیس کے اس فیصلے کی مخالفت کی۔

صدر قیس سعید نے یہ بھی اعلان کیا تھاکہ اب وہ ایک نئے وزیراعظم کے ساتھ مل کر ملک کا نظم ونسق چلائیں گے۔سروے 85 فی صد جواب دہندگان نے اس فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا جبکہ صرف پانچ فی صد نے اس کی مخالفت کی ہے۔

صدر کے پارلیمنٹ کی معطلی کے اعلان سے قبل شہروں میں امن وامان کی صورت حال ابتر ہوچکی تھی۔گذشتہ اتوار کوحکومت اور اسلام پسند جماعت النہضہ کی بالادستی والی پارلیمنٹ کے خلاف دارالحکومت تُونس میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا تھا اور انھوں نے کروناوائرس وبا اور ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال سے نمٹنے میں ناکامی پراپنے غیظ وغضب کا اظہار کیا تھا۔مشتعل مظاہرین کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

قیس سعید نے گذشتہ سوموار کوایک ویڈیو پیغام میں کہاتھا کہ انھوں نے دستور پر عمل درآمد کرتے ہوئے حالیہ فیصلے کیے ہیں اور آئین کی دفعہ19 کے تحت حاصل ہنگامی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم ہشام میشیشی کو برطرف اور پارلیمان کو 30 روز کے لیے معطل کیا ہے۔

صدرقیس کے سیاسی مخالفین نے ان پر فوج سے مل کر حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام عایدکیا تھا لیکن انھوں نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔تُونسی صدر نے اس ویڈیو پیغام میں عوام پرزوردیا کہ وہ پُرامن رہیں اور کسی اشتعال انگیزی کا جواب نہ دیں۔انھوں نے کہا:’’میں تُونسی عوام پر زوردوں گا کہ وہ سڑکوں پر نہیں نکلیں کیونکہ کسی قوم کو سب سے زیادہ جس خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے، وہ اس کا اندرونی دھماکا ہی ہوسکتا ہے۔‘‘

انھوں نے گذشتہ سوموار کی شام سات بجے سے صبح چھے بجے تک کرفیو نافذ کردیا تھا۔یہ کرفیو جمعہ 27 اگست تک نافذالعمل رہے گا اور اس دوران میں شدید بیمارمریضوں اورشب کے وقت کام کرنے والے کارکنان کے سوا کسی کو گھروں سے باہرنکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔صدارتی حکم کے تحت دن کے اوقات میں عوامی شاہراہوں پر یاچوکوں ، چوراہوں میں تین افراد کے اکٹھا ہونے پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے۔