.

ایران میں احتجاج کا سلسلہ جاری، ایک اور زخمی احتجاجی دم توڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کل جمعرات کو دارالحکومت تہران سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے ایرانی رجیم اور سپریم لیڈر کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور اھواز کے عرب مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

ادھر اھواز میں ایرانی پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک احتجاجی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

تہران کے جنوب مغربی علاقے رباط کریم میں گذشتہ روز سیکڑوں افراد نے حکومت مخالف مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین اھواز کے باشندوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مظاہروں کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مظاہرین سخت مشتعل ہیں اور وہ ایران کے ظالمانہ نظام کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ مظاہرین نے احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال روکنے اور حراست میں لیے گئے مظاہرین کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایران کے ضلع عیلام میں سرابلا شہرمیں مظاہرین نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر پر مشتمل ایک بورڈ نذر آتش کر دیا۔ مظاہرین نے حکمران نظام کے خلاف اور اھواز کے مظاہرین کی حمایت میں نعرے لگائے۔

ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ الخفاجیہ شہر سے تعلق رکھنے والا 18 سالہ ایک شہری علی عباس الساری دم توڑ گیا۔ الساری 17 جولائی کو ایرانی پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوگیا تھا۔

ایران میں 15 جولائی سے جاری مظاہروں کےدوران پولیس کی فائرنگ اور تشدد سے اب تک کم سے کم 9 نہتے مظاہرین ہلاک اور دسیوں زخمی ہوچکے ہیں۔ مظاہروں کا آغاز دو ہفتے قبل اھواز صوبے میں پانی کی قلت کے خلاف ہوا جو اب تقریبا پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔