.

سعودی عرب: داعش کے کارکن کو ’’الحرابہ‘‘ کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکام نے جازان شہر میں لوٹ مار کے لیے بینک میں فائرنگ کرنے والے مقامی شہری پر اسلامی شریعت کے مطابق سنائی گئی ’حد الحرابہ‘ کی سزا پر عمل درآمد کر دیا ہے۔ حد الحرابہ ملک میں انارکی پھیلانے والے جرم کی سزا کہلاتی ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی شہری محمد بن ابراہیم الرفاعی متعدد جرائم میں پولیس کو مطلوب اور دہشت گرد تنظیم داعش کا رکن تھا۔ وزارت داخلہ نے بتایا کہ الرفاعی نے جازان شہر کے ایک بینک میں گھس کر وہاں موجود افراد پر فائرنگ کی جس سے یحیی بن احمد شیبان اور عبداللہ بن عبدہ بن محمد بکر ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔

دہشت گرد کارروائی کے دوران
دہشت گرد کارروائی کے دوران

الرفاعی نے دیگر کو یرغمال بنالیا تھا۔ فائرنگ سے بینک کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی تھی۔ الرفاعی غیر قانونی طریقے سے اسلحہ ذخیرہ کرکے بدامنی پھیلا رہا تھا۔ وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کرکے اس سے پوچھ گچھ کی اور فرد جرم عائد کرکے سپیشل کورٹ کے حوالے کر دیا تھا۔

جازان کا وہ بینک جہاں کارروائی ہوئی
جازان کا وہ بینک جہاں کارروائی ہوئی

عدالت نے ملک میں انارکی اور بدامنی پھیلانے والے جرائم کے ارتکاب کے پیش نظر اسے حد الحرابہ کی سزا سنائی تھی۔ متعلقہ عدالتوں نے فیصلے کی توثیق کردی تھی اور آخر میں ایوان شاہی سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا فرمان جاری ہوگیا تھا۔ جازان کے حکام نے الرفاعی کو جمعرات کو جیل میں موت کی سزا دی ہے۔