.

تُونس میں سیاسی بحران جاری؛النہضہ کے سربراہ راشدالغنوشی علیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُونس میں صدرقیس سعید کے وزیراعظم کی برطرفی اور پارلیمان کو ایک ماہ کے لیےمعطل کرنے کے اقدام کے بعد سے سیاسی بحران جاری ہے جبکہ ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت النہضہ کے 80 سالہ سربراہ علیل ہوگئے ہیں۔

ان کے ایک قریبی معاون احمد جعلول نے بتایا ہے کہ صدرقیس کے 25جولائی کو تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد سے راشدالغنوشی دن میں 16 سے 18 گھنٹے تک کام کرتے رہے ہیں اور کام کی زیادتی کی وجہ سے انھیں نقاہت ہوگئی ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ’’راشدالغنوشی کی حالت زیادہ خراب نہیں ہے اور انھیں اسپتال منتقل نہیں کیا گیا ہے۔‘‘علیل رہ نما تُونسی پارلیمان کے اسپیکر بھی ہیں اوروہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ راشدالغنوشی کوایک روز قبل معمولی نقاہت ہوئی تھی اور انھیں ایک کلینک میں طبی معائنے کے لیے لے جایا گیا تھا۔اس چیک اپ کے دوران میں معالجین نے بتایا تھا کہ خطرے والی کوئی بات نہیں ہے۔

صدرقیس سعید نے گذشتہ اتوارکو وزیراعظم ہشام مشیشی کو برطرف کردیا تھا اور پارلیمان کو 30 دن کے لیے معطل کردیا تھا۔انھوں نے 460 کاروباری شخصیات کے خلاف بدعنوانیوں کے الزام میں کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔اس کے علاوہ النہضہ سمیت سیاسی جماعتوں کی غیرقانونی فنڈنگ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا تھا۔

راشدالغنوشی نے صدر کے اس اقدام کے بعد فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے ایک انٹرویو میں ملک میں جمہوریت کی بحالی پر زوردیا تھا اور ایوان صدر کے ساتھ کوئی مکالمہ نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے خبردار کیا تھا کہ’’اگرحکومت کی تشکیل کے لیے کوئی سمجھوتا طے نہیں پاتا اور پارلیمان کو دوبارہ نہیں کھولا جاتا تو ہم تُونسی عوام کو دعوت دیں گے کہ وہ اپنی جمہوریت کا خوددفاع کریں۔‘‘

واضح رہے کہ راشدالغنوشی کے زیرقیادت النہضہ گذشتہ دس سال کے دوران میں تمام مخلوط حکومتوں میں شامل رہی ہے مگر پے درپے برسراقتدارآنے والی حکومتیں تُونس کودرپیش معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل سے نجات نہیں دلاسکی ہیں۔تُونسیوں کی اکثریت النہضہ کو بھی ملکی مسائل کا ذمہ دار گردانتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 2011ء کے عرب بہاریہ انقلاب کے بعد اس جماعت نے عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورانہیں کیا ہے۔