.

ترکی: سیلابی ریلے میں بہ جانے والی خاتون کوکیسے بچایا گیا؟ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے مشرق میں واقع گاؤں باسکیل میں ایک خاتون اپنے دس سالہ بھائی کو بچاتے ہوئے سیلابی ریلے کی نذر ہوگئی لیکن اس کو ڈرامائی انداز میں بچا لیا گیا ہے۔

گاؤں میں طوفانی بارشوں کےنتیجے میں سیلاب آنے کے بعد 23 سالہ یورتسیفین اپنے بھائی کو بچارہی تھیں ،اس دوران میں اچانک وہ سیلابی ریلے میں بہ گئیں اور وہ انھیں پانچ میٹر دور کھینچ کر لے گیا۔پھر اسی گاؤں کی ایک اور خاتون ان کی مدد کو پہنچیں اور انھوں نے اس دوشیزہ کو بچا لیا۔

اس واقعہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہے۔اس میں آبدیدہ لڑکے کو یورتسیفین کے ہاتھ پکڑے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ترکی کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے سے اس گاؤں میں متعدد مکان بہ گئے ہیں۔تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

خوفناک آگ پر قابو پانے کی کوششیں

ترکی اپنے جنوبی ساحلی علاقے میں گذشتہ پانچ روز سے لگی ہوئی آگ پر قابو پانے کے لیے نبردآزما ہے۔ترکی میں بحرمتوسط کے کنارے واقع علاقوں اور جنگلوں میں گذشتہ بدھ کو آگ لگی تھی اور اس نے بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔اس سے اب تک متعدد جنگل اور بستیاں جل چکی ہیں اور دیہات اور سیاحتی مقامات کو لوگوں سے خالی کرایا جارہاہے۔

ترک وزیر زراعت و جنگلات بکیرپاک دیمیرلی کے مطابق تیزہواؤں اور شدید گرمی کے سبب 98 مقامات پر لگنے والی آگ میں سے 88 جگہوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔ ترکی کی ایمرجنسی اورڈیزاسٹر اتھارٹی نے پانچ صوبوں میں آگ سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے آگ سے بے گھر ہونے والے افراد کے کرائے حکومت کی جانب سے برداشت کرنے اور ان کےگھروں کی تعمیرنو کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کے لیے ٹیکس، سماجی تحفظ اور کریڈٹ کی ادائی ملتوی کردی جائےگی اور چھوٹے کاروباری اداروں کو بلاسود قرضوں کی پیش کش کی جائے گی۔

آگ پر قابو پانے کی امدادی سرگرمیوں میں تیرہ طیارے شریک ہیں۔ان میں یوکرین،روس،آذربائیجان اور ایران کے طیارے بھی شامل ہیں اور ہزاروں ترک اہلکار اور درجنوں ہیلی کاپٹر اور ڈرون آگ بجھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ترکی میں جنگل کی آگ سے لاحق خطرات کے بعد ہفتے کے روزبحیرہ ایجیئن کے کنارے واقع بودرم ریزارٹ سے غیرملکی سیاحوں کو کشتیوں کے ذریعے نکال لیا گیا تھا۔اس ریزارٹ میں واقع ہوٹلوں میں بیسیوں ملکی اور غیرملکی سیاح مقیم تھے۔اس کے نزدیک واقع جنگل میں آگ پھیلنے کے بعد حکام نے سیاحوں کو ہوٹل خالی کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد وہ سمندر کے کنارے پہنچ گئے اور وہاں سے انھیں کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات کی جانب منتقل کردیا گیا ہے۔