.

ٹوکیواولمپکس:بیلاروس حکومت کی ایتھلیٹ تسیمانوسکایا کو زبردستی وطن لانے کی کوشش ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پولینڈ اورجاپان نے بیلاروسی ایتھلیٹ کرسٹیسینا تسیمانوسکایا کو صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی حکومت کی معاندانہ کارروائی اورانھیں بے توقیرکرنے کی کوششوں سے بچانے میں مدد کی ہے اور انھیں ٹوکیو سے زبردستی وطن لانے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔یہ بات بیلاروس میں متعیّن امریکی سفیر نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں کہی ہے۔

ٹوکیواولمپکس میں شریک تسیمانوسکایا جاپانی دارالحکومت میں پولش سفارت خانے میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں ان کی خواہش کے برعکس ٹوکیو ہوائی اڈے پر لے جایا گیا تھا اور بیلاروس بھیجنے کے لیے ایک پرواز میں سوار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

امریکی سفیرجولی فشر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جاپانی اور پولش حکام کی فوری کارروائی کی بدولت تسیمانوسکایا بیلاروس کے صدر لوکاشینکو کی حکومت کے کسی معاندانہ اقدام سے بچنے میں کامیاب رہی ہیں۔اس خاتون ایتھلیٹ نے بیلاروس کی حکومت اور اولمپک کمیٹی کے اقدامات کے خلاف اپنے خیالات کا اظہارکیا تھا۔اس پرانھیں ٹوکیواولمپکس سے واپس بھیجنے کی تیاری کرلی گئی تھی۔

پولینڈ کی وزارت خارجہ کے ایک عہدہ دار کے مطابق ایتھلیٹ کرسٹیسینا تسیمانوسکایا کو ٹوکیو میں پولش سفارت خانے سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزاجاری کردیا گیا ہے۔ بیلاروسی اسپورٹ سالیڈیریٹی فاؤنڈیشن (بی ایس ایس ایف) نے امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس( اے پی) کو بتایا کہ اس نے خاتون ایتھلیٹ کی 4 اگست کو وارسا روانگی کے لیے طیارے کا ٹکٹ خریدلیا ہے۔

تسیمانوسکایا نے بیلاروسی حکام پرٹیم کا انتظام سنبھالنے کے حوالے سے تنقید کی تھی۔اس پر ملک کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں بڑے پیمانے پرسخت ردعمل سامنے آیا ہے۔واضح رہے کہ بیلاروس میں حکومتی ناقدین کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن جاری ہے۔ تسیمانوسکایا نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کہا تھاکہ انھیں 4ضرب 400 ریلے میں رکھا گیا تھا حالانکہ انھوں نے اس ایونٹ میں کبھی حصہ نہیں لیا ہے۔

اس کے بعد تسیمانوسکایا کو ٹوکیو کے ہوائی اڈے پر لے جایا گیا لیکن انھوں نے استنبول جانے والی پروازمیں سوار ہونے سے انکارکردیا اور مدد کے لیے جاپانی پولیس سے رابطہ کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک پیغام میں انھوں نے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی سے بھی مدد طلب کی تھی۔

24 سالہ ایتھلیٹ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’مجھ پردباؤ ڈالا گیا اوروہ (حکام)میری مرضی کے برعکس مجھے زبردستی ملک سے باہر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

بیلاروس کی مطلق العنان حکومت ایک سال قبل صدارتی انتخابات کے بعد سے اختلاف رائے کا ہلکا سا اظہارکرنے والے کسی بھی شخص کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہی ہے۔اس پر عوام میں غم وغصے کی سخت لہر دوڑ گئی ہے۔ حکومت اپنے ناقدین کوخاموش کرانے کے لیے انتہاپسندی کا مظاہرہ کررہی ہے۔اس میں طیارے کا حالیہ واقعہ بھی شامل ہے۔یورپی حکام نے اس کو فضائی قزاقی کا عمل قرار دیا ہے۔

اسپورٹس فاؤنڈیشن کے مطابق اس تناظر میں تسیمانوسکایا کو سرکاری ذرائع ابلاغ میں اپنےخلاف مہم برپا ہونے کے بعد اپنی جان کے تحفظ کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا اور اسی کے پیش نظر نے مدد کے لیے رابطہ کیا تھا۔

بی ایس ایس ایف کے ترجمان الیگزینڈر اوپیکن نے اے پی کو انٹرویو میں بتایا کہ ’’ان کے خلاف مہم کافی باعث تشویش تھی اور یہ اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ بیلاروس میں ان کی زندگی خطرے سے دوچارہوجائے گی۔‘‘