.

یواے ای کے خلائی مشن اُمیدِتحقیق نے مریخ کی سطح کی بالکل شفاف تصویربنالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے خلائی مشن اُمیدِتحقیق نے مریخ کی سطح کی بالکل شفاف تصویر بنا کر زمین پر روانہ کی ہے۔اس نے سُرخ سیارے کی سطح سے کوئی 1325 کلومیٹر اونچائی سے یہ تصویر بنائی تھی۔

یو اے ای کے مریخ پر جانے والے خلائی مشن امید تحقیق نے اس سال 15 مارچ کو یہ تصویر بنائی تھی اور مشن نے اپنے سرکاری ٹویٹراکاؤنٹ پر سوموارکو یہ تصویر جاری کی ہے۔اس کے بعد سے ہزاروں لوگوں نے اس کو لائیک اور شیئر کیا ہے۔

اس تصویر میں اس سیارے کے آتش فشانی علاقے ایلزیم پلانیشیا کواجاگر کیا گیا ہے۔یو اے ای کا خلائی مشن 9 فروری کو مریخ کے مدار میں داخل ہوا تھا۔

امید تحقیق نے اب تک اس سیارے کے ماحول اور مختلف پرتوں کے بارے میں اہم تصویری معلومات فراہم کی ہیں۔اس نے عکس بندی کے لیے انفراریڈ اور الٹرا وائِلٹ کیمروں کا استعمال کیا ہے۔

اس مشن کا مقصد مریخ کی سطح پر موجود برف کی گہرائی ،کاربن مونو آکسائیڈ اور آکیسجن کی سطح کی پیمائش ہے۔اس کے علاوہ گرد ، برفانی دھویں ، درجہ حرارت اور کم درجہ حرارت میں آبی بخارات کی جانچ کی جائے گی۔

واضح رہے کہ یو اے ای نے جولائی 2020ء میں اپنا پہلا خلائی مشن مریخ کے لیے روانہ کیا تھا اور وہ یہ مشن بھیجنے والا خطے کا پہلا ملک تھا۔’’اُمید تحقیق‘‘ کے نام سے اس مشن نے جاپان کے ٹینے گاشیما خلائی مرکز سے اڑان بھری تھی۔

امل (امید) نامی بغیرانسان خلائی گاڑی قریباً سات ماہ کے سفر کے بعد فروری کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل ہوگئی تھی۔اس نے 48 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔یواے ای نے 2117ء میں مریخ پر ایک انسانی کالونی بسانے کا بھی اعلان کررکھا ہے۔

یو اے ای ان پانچ ممالک کی صف میں شامل ہوچکا ہے جن کے خلائی مشن مریخ پر پہنچنے میں کامیابی سے ہم کنار ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے مریخ کو مسخر کرنے کے لیے بھیجے گئے مشنوں میں سے 60 فی صد ناکام رہے تھے اور وہ مریخ کے پیچیدہ کڑے ماحول میں داخل نہیں ہوسکے تھے۔وہ ٹوٹ کر بکھر گئے یا وہاں جل کرراکھ ہوگئے۔اسی وجہ سے مریخ کو بہت سے خلائی مشنوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔