.
کرونا وائرس

سعودی عرب:25فی صدآبادی کوکووِڈ-19 ویکسین کی دونوں خوراکیں لگائی جاچکیں

اکتوبرتک اجتماعی مدافعت کے حصول کے لیے70 فی آبادی کو ویکسین کی دونوں خوراکیں لگادی جائیں گی: وزارتِ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں اب تک 25 فی صد آبادی کو کرونا وائرس کی ویکسین کی دونوں خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔مملکت میں اکتوبرتک 70 فی صد آبادی کو ویکسین لگادی جائے گی اور اس طرح ’اجتماعی قوتِ مدافعت‘(ہرڈ ایمیونٹی) کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔

سعودی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 80 لاکھ شہریوں اور مکینوں کو کووِڈ-19 کی ویکسین کی دونوں خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔یہ تعدادکل آبادی کے 25 فی صد کےبرابر ہے جبکہ ایک کروڑ 90لاکھ افراد(کل آبادی کا 56 فی صد) کو ویکسین کی پہلی خوراک لگائی جاچکی ہے۔

وزارت صحت نے مزید بتایا ہے کہ ملک بھرمیں 587 ویکسین مراکز میں منگل تک ویکسین کی دوکروڑ80 لاکھ سے زیادہ خوراکیں لگا دی گئی ہیں۔سرکاری اعدادو شمارکے مطابق سعودی عرب میں روزانہ اوسطاً ویکسین کی 365000 سے زیادہ خوراکیں لگائی جارہی ہیں۔

حکام کے مطابق اس سال اکتوبر تک کرونا وائرس اور اس کی نئی شکلوں سے تحفظ کے لیے اجتماعی قوت مدافعت کےہدف کے حصول کے ضمن میں وزارت صحت کی ویکسین لگانے کی مہم درست سمت میں جارہی ہے۔

سعودی عرب نے اب تک کووِڈ-19 کی چارویکسینیں؛ فائزر،بائیو۔این ٹیک ، ماڈرنا ، آکسفورڈ۔آسٹرازینیکا اور جانسن اینڈجانسن،لگانے کی منظوری دی ہے۔

سعودی حکومت زیادہ سے زیادہ افراد کی ویکسین لگوانے کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔اس نے یکم اگست سے ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں اور مکینوں پر مختلف قدغنیں لگادی ہیں اور ان کے سرکاری اور غیرسرکاری دفاتر اورعوامی مقامات میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔

ویکسین لگوانے کا ثبوت فراہم نہ کرنے والے افراد اب شاپنگ مالوں ، ریستورانوں ، کیفے ، بیوٹی پارلر، حجام کی دکانوں،خریداری مراکز ، سرکاری اور نجی مقامات ، اسکولوں ، شادی ہالوں ،تقریبات اور مارکیٹوں میں داخل نہیں ہوسکتے ہیں جبکہ ویکسین لگوانے والے افراد ہی اب پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرسکتے ہیں،تمام اقتصادی ، تجارتی ، ثقافتی ، تفریحی اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں شریک ہوسکتے ہیں۔

سعودی عرب نے حال ہی میں اپنی بین الاقوامی سرحدیں سیاحوں کے لیے دوبارہ کھول دی ہیں لیکن حکومت کی منظورشدہ کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے والے افراد ہی مملکت میں داخل ہوسکیں گے۔جن غیرملکی سیاحوں نے چین کی ساختہ سائنوفارم یا سائنوویک کی ویکسین لگوارکھی ہے،وہ مذکورہ چارویکسینوں میں سے کسی ایک کا اضافی انجیکشن لگوانے کی صورت ہی میں سعودی عرب میں داخل ہوسکیں گے۔