.

کابل : افغان وزیر دفاع کے ناظم الامور کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ ، 8 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منگل کی شب وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی کے ناظم الامور کے گھر کے نزدیک کار بم حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے فائرنگ ہوئی اور دستی بموں کے دھماکے بھی کیے گئے۔ اس کارروائی میں 8 افراد ہلاک ہو گئے۔

ایک افغان ٹیلی ویژن "طلوع نيوز" کے مطابق یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق 8 بجے کابل کے علاقے شیرپور میں ہوا۔ اس علاقے میں سینئر حکومتی عہدے داران اور بعض ارکان پارلیمنٹ کے گھر واقع ہیں۔

حملے کے کچھ ہی دیر بعد سیکورٹی فورسز واقعے کے مقام پر پہنچ گئیں۔ واقعے کے ایک گھنٹے کے عرصے کے دوران میں ایمبولینس کی گاڑیوں کی آمد و رفت دیکھی گئی۔

طلوع نیوز نے وزارت دفاع کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ وزیر دفاع کے ناظم الامور خیریت سے ہیں اور دھماکے کے وقت وہ اپنے گھر پر نہیں تھے۔

میڈیا کے مطابق مسلح افراد کے ایک گروہ نے جنرل محمدی کے گھر کے نزدیک ایک گھر پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ خیال ہے کہ مذکورہ گھر افغان رکن پارلیمنٹ عظیم بغلانی کا ہے۔ میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے پہرے داروں اور اس کے بعد سیکورٹی اہل کاروں نے حملہ آوروں پر فائرنگ کر دی۔

حملے کا ہدف رکن پارلیمنٹ ،،، ایک اہم افغان کمانڈر کا بیٹا شمار کیا جاتا ہے جو طالبان تحریک کے خلاف مزاحمت کے واسطے جنگجوؤں کے گروپوں کو منظم کرتا ہے۔