.

اسرائیل نے آئل ٹینکر پرحملے کے ایرانی ماسٹر مائنڈ کی شناخت جاری کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے بدھ کے روز کہا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سفیروں کو بتایا ہے کہ چند روز قبل بحیرہ عرب میں اسرائیل کے ایک تیل بردار جہاز پر حملے کا ماسٹرمائنڈ ایرانی پاسداران انقلاب کی ڈرون یونٹ کا انچارج سعید ارجانی ہے۔

انہوں نے مزید کہا مرسر اسٹریٹ پر حملے کے بارے میں غیر ملکی سفیروں کے ساتھ ایک بریفنگ کے دوران کہا گیا ہے خلیج عمان میں ہونے والے حملے کے پیچھے سعید ارجانی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران تیزی کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ 10 ہفتے کے اندر اندر جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار مواد حاصل کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل گذشتہ ہفتے کے دوران تمام سیاسی اور سیکیورٹی چینلز کے ذریعے بین الاقوامی برادری کو ایران کے حملے روکنے کے لیےتہران کے خلاف متحرک کرنے کی کوشش کر چکاہے۔

بینی گینٹز نے مزید کہا کہ یہ شام میں فوجوں کے درمیان تصادم یا فوجی تنصیبات کے خلاف کوئی خفیہ آپریشن نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی تجارتی لائن پر حملہ ہے۔یہ نقل و حرکت کی آزادی پر حملہ ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی جرم ہے ، اور دنیا کو اب اس کے خلاف حرکت میں آنے کی ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے زور دیا کہ دنیا کو اب ایران اور اس کے عالمی جرائم اور تجارتی راستوں پر جارحیت کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

امریکا اور برطانیہ نے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر لائبیریا کے جھنڈے والے آئل ٹینکر مرسر اسٹریٹ پر حملے کا جواب دیں گے۔ یہ جہازایک جاپانی کمپنی کی ملکیت ہے اور اسرائیل کی زوڈیاک میری ٹائم کے زیر انتظام ہے۔

ایران نے مشتبہ ڈرون حملے میں اپنے ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی خطرے کا فوری جواب دے گا۔

برطانیہ ، رومانیہ اور لائبیریا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ اس بات کا قوی امکان امکان ہے کہ ایران نے عمان کے ساحل سے گذشتہ ہفتے آئل ٹینکروں پر مہلک حملہ کرنے کے لیے ایک یا زیادہ ڈرون استعمال کیے۔

امریکی حکام نے غیر رسمی ملاقاتوں میں کہا کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن اس وقت فوجی ردعمل کی توقع نہیں رکھتے۔

خلیج کے پانیوں اور ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی 2018 کے بعد اس وقت بڑھ گئی تھی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پابندیوں نےایرانی معیشت کو مفلوج کر دیا تھا۔