.

بیروت بندر گاہ سے دو بار امونیم نائٹریٹ حزب اللہ کے گڑھ منتقل کیا : لبنانی ڈرائیور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں ایک مقامی ڈرائور نے اپنے دھماکا خیز انکشاف میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے بیروت کی بندر گاہ سے دو مرتبہ امونیم نائٹریٹ دارالحکومت کے جنوب میں حزب اللہ کے گڑھ منتقل کیا۔

ڈرائیور کا نام عماد کشلی ہے۔ اس نے لبانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے یہ معاملہ ایک برس تک چھپائے رکھا کیوں کہ اسے کوئی قابل اعتماد فرد نہیں ملا جس کو وہ اس بارے میں آگاہ کرے۔ کشلی نے مزید بتایا کہ 4 اگست 2020ء کو (دھماکے والے روز) اس نے بیروت کی بندر گاہ پر سیکورٹی فورسز کی غیر معمولی اور عجیب سے نقل و حرکت دیکھی تھی۔

ڈرائیور کے مطابق گودام نمبر 12 کا گیٹ صحیح اور سالم تھا اور وہاں کوئی مسئلہ نہ تھا۔ گودام نمبر 12 وہ جگہ ہے جہاں بیروت بندر گاہ کا دھماکا ہوا تھا۔

یاد رہے کہ بعض لوگوں نے بیروت کی بندر گاہ پر ہونے والے دھماکے کی وجہ مذکورہ گیٹ کی ویلڈنگ کو قرار دیا تھا۔ سیکورٹی رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ دروزاہ خراب ہو رہا تھا۔

بیروت کی بندر گاہ پر ذخیرہ کی گئی امونیم نائٹریٹ کی کھیپ کے سبب گذشتہ سال ہونے والے دھماکے کے بعد سے کئی مقامی اور بین الاقوامی فریقوں کی جانب سے یہ بات کی گئی کہ اس کھیپ کا تعلق حزب اللہ سے ہے۔

لبنان میں اس دھماکے کو ایک برس گزر جانے کے باوجود واقعے کی تحقیقات اب تک کسی فیصلہ کن نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ اس دھماکے میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے۔

دستاویزات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ 2014ء میں بیروت کی بندر گاہ پر بے سوچے سمجھے انتہائی قابل اشتعال امونیم نائٹریٹ مواد ذخیرہ کیا گیا تھا۔ اعلی سطح کے کئی اعلی عہدے داران کو برسوں سے اس بات کا علم تھا مگر انہوں نے کچھ نہ کیا۔

بیروت بندر گاہ کے دھماکے کے بعد سے عالمی برادری براہ راست لبنانیوں کے لیے انسانی امداد پیش کر رہی ہے۔ اس عمل میں ریاستی اداروں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جن پر بدعنوانی کا الزام ہے۔