.

عراق کی مذہبی قیادت کی فرقہ واریت کی مذمت اورامن بقائے باہمی پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں رابطہ عالم اسلامی کے زیراہتمام عراق کے سرکردہ علما کے استقبال میں منعقدہ فورم میں عراقی دینی قیادت نے ہرطرح کی فرقہ واریت کی شدید مذمت کرتےہوئے امن بقائے باہمی کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خیال رہے کہ عراق سے تعلق رکھنے والے اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع کے سرکردہ علما کا ایک وفد حال ہی میں سعودی عرب کے دورے پر مکہ مکرمہ پہنچا تھا۔ چار اگست کو رابطہ عالم اسلامی کی میزبانی میں ایک فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں عراق کے شیعہ اور سنی علما نے اظہارکیا۔ عراق کی دینی قیادت کے دورہ سعودی عرب اور اسلامی روا داری کےاصولوں کو اپنانے پر اصرار نے عوام میں ان کی عزت اور وقار میں اور بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس فورم کے انعقاد کی تیاریاں کئی ماہ سے جاری تھیں اور رابطہ عالم اسلامی کی انتظامیہ کئی ماہ سے عراق کے شیعہ اور سنی علما سے مسلسل رابطے میں تھی۔

اس فورم کے انعقاد کا مقصد اسلام کے ایسے بیانیے کا اظہار کرنا ہے جس میں اکثریت پر یقین رکھنے، باہمی احترام، فرقہ واریت کی لعنت سے ماورا ہو کردین اسلام کی برداشت اور رواداری کی روایات کواپنانے، عراق اور پورے خطے میں موجود فرقہ واریت کے ناسور کوختم کرنے کے لیے علما کو ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔

البلاغی اکیڈیمی کے ڈائریکٹر زیر بحرالعلوم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اس فورم میں عراقی علما کی شرکت کونجف الاشرف کی رواداری اور بقائے باہمی کے اصولوں اور روایات کی تشہیر کے لیے کی جانے والی مساعی کا حصہ سمجھتا ہوں۔ عراق کے مختلف مکاتب فکرکے علما کرام اور دینی اسکالرز نے اعتدال پسندانہ طرز فکر اختیار کرنے ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی مذمت پرمبنی بیانیے کے ذریعے واضح کیا ہے کہ عراقی علما فرقہ واریت کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے ہیں۔

بحر العلوم نے کہا کہ عراق کے سنی اور شیعہ علما نے مشترکہ وژن پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عراقی عوام کو انتہا پسندی اور تکفیری آفات سے بچانے کے لیے مل کر کوششیں کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عراقی علما کا مکہ معظمہ میں ایک فورم میں شرکت کرکے اپنے وژن کے اظہار سے واضح کیا ہے کہ مکہ معظمہ کی عالم اسلام میں ایک علامتی اہمیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراقی علما نے مختلف اختلاف مسائل میں ہم آہنگی پیدا کرنے، اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش، تکفیری نظریات اور انتہا پسندی کو جرم قرار دینے اور اسلامی معاشرے میں معنوی امکانات کی سرمایہ کاری پر زور دیا ہے۔