.

کابل: طالبان نے سرکاری میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کو قتل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان وزارت داخلہ نے بتایا کہ مسلح افراد نے گورمنٹ انفارمیشن میڈیا سینٹر کے ڈائریکٹر دوا خان میناپال کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ افغان حکومت کے عہدیدار کا قتل ایسے وقت پر ہوا ہے، جب طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور ملک کے کئی حصوں ميں جھڑپيں جاری ہيں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان میر واعظ استانکزئی نے دوا خان میناپال کی ہلاکت کے بارے میں کہا، ''بدقسمتی سے وحشی دہشت گروہوں نے ایک بار پھر بزدلانہ کارروائی کی اور ایک محب وطن افغان کو شہید کر دیا۔‘‘ استانکزئی نے مزید کہا، ''وہ [میناپال] ایک ایسا نوجوان تھا، جو دشمن کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا رہتا تھا اور ہميشہ حکومت کا حامی تھا۔‘‘ حکام نے بتایا کہ کابل میں دوا خان میناپال پر جمعے کی نماز کے دوران فائرنگ کی گئی۔

طالبان نے ’خصوصی حملہ‘ کی ذمہ داری قبول کر لی

طالبان نے میڈیا کے نام جاری کردہ ایک پیغام میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتايا کہ میناپال کو گروپ کے ايک جنگجو نے 'ایک خاص حملے‘ ميں ہلاک کیا اور انہيں 'ان کے اعمال کی سزا دی گئی۔‘

افغان فورسز کی طرف سے طالبان کے خلاف فضائی حملوں میں تیزی کے بعد طالبان نے اعلیٰ حکومتی عہدیداران کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ قبل ازیں منگل کے روز طالبان نے افغان وزیر دفاع کے گھر کو نشانہ بنایا تھا۔ وزیر دفاع اس قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔

افغانستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازعہ اس وقت سے شدت اختیار کر گیا جب مئی میں غیر ملکی فوجیوں کا ملک سے انخلاء شروع ہوا۔

اس کے بعد سے طالبان افغانستان کے بیشتر دیہی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے قبضہ کر چکے ہیں۔ وہ اب کابل پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، جو اس ہفتے کے آغاز تک پرتشدد کارروائیوں سے محفوظ رہا۔

امریکی اور افغان افواج نے حال ہی میں طالبان کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملوں میں اضافہ کیا تاکہ اس شدت پسند گروپ کو پیچھے دھکیلا جا سکے۔ تاہم طالبان نے کہا کہ منگل کا حملہ افغان حکام کے خلاف 'جوابی‘ حملوں کی صرف شروعات تھی۔