.

مہنگی گھڑی پہننے پر حوثی ملیشیا کے ترجمان پر یمنی عوام چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایک طرف عوام کی کثیر تعداد دو وقت کی روٹی سے محروم ہے اور دوسری طرف ایرانی پالتو حوثی لیڈرلگژری گاڑیوں اور بیش قیمت گھڑیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ حوثی لیڈروں کے اس شاہانہ طرز زندگی پریمن کے لاچار عوام سخت برہم دکھائی دیتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال گذشتہ روز دیکھنےمیں آئی جب حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام کو ایران کے دورے کے دوران ابراہیم رئیسی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے موقعے پر ایک بیش قیمت گھڑی پہنے دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا نے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ترجمان محمد عبدالسلام کی تصویر شائع کی جس نے اسےمشہور برانڈ کی لگژری اور مہنگی گھڑی پہنے دکھایا گیا۔ عبدالسلام تہران میں نئے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی حلف برداری کی تقریب میں شریک تھا۔

محمد عبدالسلام
محمد عبدالسلام

حوثیوں کے ترجمان کی مہنگی گھڑی والی تصویر منظر عام پرآنے کے بعد یمنی عوام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ کیونکہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ترجمان کی طرف سے پہنی جانے والی گھڑی رولیکس واچ ہے جس کی مالیت تقریبا 24 ہزار ڈالر ہے۔ یہ رقم 23 ملین یمنی ریال سے زیادہ ہے۔ ایک طرف حوثی لیڈر اتنی مہنگی گھڑیاں پہن رہےہیں اور دوسری طرف عام شہریوں کے لیے زندگی بھی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ حوثی دہشت گردی اور لوٹ مار کی وجہ سےیمن میں ہرطرف غربت کا دور دورہ ہے۔

مقامی یمنی اخبارات میں بھی اس تصویر کو شائع کیا گیا۔ عبدالسلام اس سے قبل ایک اور لگژری گھڑی کے ساتھ دیکھا گیا تھا جس کی قیمت 20،000 ڈالر تھی۔

یمنی کارکنوں نے حال ہی میں حوثی ملیشیا کے رہ نماؤں اور گروہ کے لیڈر کے قریبی افراد کے اسراف پر روشنی ڈالی۔ ملیشیا کے زیر تسلط علاقوں میں بے گناہ شہری انتہائی غربت کا شکار ہیں۔ ایسے وقت میں جب ملیشیا ہزاروں ملازمین کو ان کی ملازمت سے فارغ کرکے ان کی جگہ اپنے وفاداروں کو بھرتی کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔