ٹوکیواولمپکس:سعودی عرب کے طارق حامدی کراٹے کے مقابلے میں سلورمیڈل کے حق دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ٹوکیو میں جاری اولمپکس مقابلوں میں سعودی عرب کے طارق حامدی نے کراٹے کے 75 کلوگرام سے زیادہ وزن کی کیٹگری کے فائنل مقابلے میں چاندی کا تمغا جیت لیا ہے لیکن وہ ناک آؤٹ ہونے کی وجہ سے سونے کے تمغے سے محروم کردیے گئے ہیں۔

طارق حامدی اپنے ایرانی حریف سجاد گنج زادہ سے 4-1 سے جیت رہے تھے۔مقابلے کے دوران میں انھوں نے اپنے حریف کی گردن پرزور دے کک مار دی جس سے وہ بے ہوش ہوکر گرپڑے اور انھیں اسٹریچر پر ڈال کر رنگ سے باہر لے جانا پڑا۔

مقابلے کے بعد کراٹے کے اس فائنل مقابلے کے آفیشل نے مکمل سوچ بچار کے بعد ایرانی ایتھلیٹ کو فاتح اور طلائی تمغے کا حق دار قراردیا ہے اور طارق حامدی کی کک کو خلاف قاعدہ اورانھیں اس فائنل مقابلے میں شکست خوردہ قراردیا ہے۔اس طرح وہ سونے کا تمغا حاصل کرنے سے محروم رہے ہیں۔

سعودی عرب کے 23 سالہ نوجوان ایتھلیٹ کے لیے اولمپکس میں چاندی کا تمغا جیتنا بھی کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں لیکن سونے کے تمغے کو اتنے قریب پہنچ کر کھو دینے سے بہت سے سعودی مغموم ضرور ہوئے ہیں۔ ان کے ایرانی حریف کو اس فائنل میچ 4-0 سے فاتح قراردیا گیا ہے اور طارق حامدی کو حاصل کردہ پوائنٹس سے محروم کردیا گیا ہے۔سعودی عرب کا ٹوکیو اولمپکس میں یہ دوسرا میڈل ہے۔

واضح رہے کہ کراٹے کا کھیل اسکورنگ نظام پر مبنی ہے اور ایتھلیٹ مخالف فریق پر مناسب انداز میں مُکے اور کک لگائے تو وہ پوائنٹس کا حق دار ٹھہرتا ہے جبکہ کسی خطرناک جسمانی جگہ پرکک مارنے کی صورت میں اس کو وارننگ دی جاتی ہے یا سرے سے مقابلے کا نااہل قراردے دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں