.

یواے ای : یمن میں استحکام کے لیےسعودی عرب کے ’اہم کردار‘ کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نئے ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ کے تقرر کا خیرمقدم کیا ہے اور یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے سعودی عرب کے بنیادی اور اہم کردار کو سراہا ہے۔اس ضمن میں اس کی تمام کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

یو اے ای کی وزارت برائے امورخارجہ اور بین الاقوامی تعاون نے ہفتے کے روز ایک بیان میں ’’یمن میں استحکام اور سلامتی کے لیے برادرعرب ملک سعودی عرب کے اہم کردار کی تحسین کی ہے اور اس کی جانب سے یمن اور خطے میں امن واستحکام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔‘‘

وزارت نے یواے ای کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ’’وہ برادر یمنی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی ملک کی ترقی اور خوش حالی کے لیے جائز خواہشات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔وہ خطے کے عوام کے مفادات کے لیے تمام اقدامات کی بھی اپنی پالیسی فریم ورک کے مطابق حمایت کرتا ہے۔‘‘

یو اے ای سے قبل سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی اقوام متحدہ کے نئے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ کےتقرر کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’سعودی عرب یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے ان تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا جن کے نتیجے میں اس جنگ زدہ ملک میں امن وخوش حالی لانے میں مدد مل سکے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوٹیریس نے جمعہ کو کئی ہفتے کی تاخیرکے بعد ہانس گرنڈبرگ کو یمن کےلیے اپنا نیا خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔چین کی جانب سے ان کی نامزدگی کی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے ان کے تقرر میں بھی تاخیرہوئی ہے۔

واضح رہے کہ کسی بھی عالمی ایلچی کے تقرر کے لیے سلامتی کونسل کے تمام پندرہ رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔سلامتی کونسل کے تمام ممالک نے اسی ہفتے سویڈش سفارت کار کو مارٹن گریفیتھس کی جگہ یمن میں خصوصی ایلچی مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔

مارٹن گریفیتھس گذشتہ تین سال کے دوران میں یمن میں جاری بحران کے خاتمے کےلیے امن کوششوں میں مصالحت کار کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ انھیں گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے زیراہتمام امدادی ایجنسی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔