.

افغانستان میں سڑکوں پر گھمسان کی لڑائی ، طالبان کا قندوز اور سرِ پل پر مکمل کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے شمال مغرب میں واقع شہر سرِ پل طالبان تحریک کے قبضے میں آ گیا ہے۔ گذشتہ تین روز کے دوران میں طالبان کے کنٹرول میں آنے والا یہ چوتھا صوبائی صدر مقام ہے۔

سر پل صوبے کی کونسل کے رکن محمد حسین مجاہد زادہ کے مطابق شہر کے تمام حصے طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

اس سے کچھ دیر قبل طالبان تحریک نے افغانستان کے شمال میں واقع بڑے شہر قندوز پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طالبان نے شہر میں تمام مرکزی عمارتوں میں پوزیشن لے لی ہے۔ واضح رہے کہ 2015ء سے یہ شہر تین مرتبہ طالبان کے ہاتھوں میں آ چکا ہے۔

قندوز صوبے کی کونسل کے رکن امر الدین والی کا کہنا تھا کہ شہر کے مختلف حصوں میں ہر گلی ہر کوچے میں لڑائی ہو رہی ہے۔

امریکی اخبار Times کے مطابق امریکی فورسز نے افغانستان کے تین شہروں میں طالبان کے ٹھکانوں کو B-52 بمبار اور AC-130 طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا۔

اخبار کے مطابق ان بم بار طیاروں نے قطر سے اڑان بھری تھی اور انہوں نے قندھار، ہرات اور ہلمند میں طالبان کے ٹھکانوں پر بم باری کی۔

ادھر امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ شبرگان شہر پر امریکی فوج کے فضائی حملوں میں 200 سے زیادہ طالبان جنگجو ہلاک ہو گئے۔

طالبان نے ہفتے کے روز شبرگان شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ یہ 24 گھنٹوں کے اندر طالبان کے ہاتھوں میں آنے والا دوسرا صوبائی صدر مقام تھا۔

جوزجان صوبے کے نائب گورنر قادر مالیا نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "افسوس کی بات یہ ہے کہ طالبان نے شبرگان شہر پر قبضہ کر لیا جب کہ سرکاری فورسز اور ذمے داران ہوائی اڈے کی سمت فرار ہو گئے"۔

واضح رہے کہ جوزجان ایک سابق امیر حرب عبدالرشید دوستم کا گڑھ۔ ہے۔ دوستم ترکی میں علاج کرانے کے بعد رواں ہفتے ہی افغانستان واپس آیا ہے۔ وہ اپنی وفاداری بدلنے اور وحشیانہ پن کے سبب جانا جاتا ہے۔ اگر دوستم کا گڑھ طالبان کے ہاتھوں میں رہا تو یہ افغان حکومت کے لیے آخری ہچکی ہو گی جس نے کچھ عرصہ قبل سابقہ امراء حرب اور مختلف ملیشیاؤں سے مدد طلب کر لی تھی تا کہ طالبان کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔