.
سعودی ویژن 2030

سعودی عرب میں مشرقِ اوسط کے سب سے بڑے ونڈ فارم سے بجلی کی پیداوار کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں مشرق اوسَط کے سب سے بڑے دومۃ الجندل ونڈ فارم نے کاربن سے پاک بجلی کی پیداوار شروع کردی ہے۔اس ونڈ فارم کو قومی پاورگرڈ سے منسلک کردیا گیا ہے۔

ابوظبی فیوچرانرجی کمپنی (مصدر) نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ یہ ونڈ فارم 99 ونڈ ٹربائنوں پر مشتمل ہے۔ان میں سے ہر ایک ٹربائن ملک میں 70 ہزارگھروں کے لیے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے جبکہ ہر سال 9 لاکھ 88 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بچت ہوتی ہے۔

الجوف میں 400 میگاواٹ کا یوٹیلٹی سیل ونڈ پاور منصوبہ بھی مصدر اور ای ڈی ایف ری نیوایبلز(قابل تجدید) فرم مکمل کر رہی ہے۔مصدر کے مطابق اس منصوبہ سے صرف تعمیراتی عمل کے دوران میں 600 سے زیادہ مقامی افراد کو ملازمتیں ملی ہیں۔

دومۃ الجندل ونڈ کمپنی فار انرجی ایل ایل سی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اولیویر مارچنڈ کا کہنا ہے کہ ’’سعودی عرب کی وزارت توانائی، سعودی پاور پروکیورمنٹ کمپنی (ایس پی سی سی) اور سعودی الیکٹریسٹی کمپنی (ایس ای سی) کی جانب سے مہیا کردہ مکمل معاونت کے ساتھ ہماری ٹیموں اور ٹھیکےداروں نے صحت اور تحفظ کے اعلیٰ معیارات کے نفاذ کے ساتھ اس منصوبہ کو مکمل کیا ہے اوراس انتہائی چیلنج والی وَبا کے دوران میں اس منصوبے کو کامیابی سے ہم کنار میں کرنے میں اہم کردارادا کیا ہے۔‘‘

مارچنڈ نے مزید کہا کہ اب ہم اپنے شراکت داروں اور ٹھیکے داروں کے ساتھ مل کر آیندہ مہینوں میں اس منصوبہ کے مکمل پیداواری صلاحیت کے مطابق کام کے منتظر ہیں۔

سعودی عرب میں ونڈ فارم سے بجلی کی پیداوار کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے کے لیے مملکت کے وژن 2030ء کے تحت منصوبوں کا حصہ ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پیش کردہ جامع اقتصادی اصلاحات کے اس وسیع تر منصوبہ کا مقصد ملکی معیشت کو متنوع بنانا اور 2030ء تک سعودی عرب میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو قریباً 50 فی صد تک بڑھانا ہے۔

ای ڈی ایف ری نیوایبلز مڈل ایسٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اولیویر بورڈز نے کہا کہ ’’اس منصوبہ کا آغاز دومۃ الجندل ونڈ فارم سے بجلی کی مسابقتی، اختراعی فراہمی اور سعودی عرب کے ویژن 2030ءکی معاونت کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔اس کا مقصد مملکت میں کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔‘‘

بورڈز کا کہنا تھاکہ ’’ہم عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنج سے نبرآزما ہونے کے لیے سعودی عرب اور جی سی سی کے خطے میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو وسعت دے رہے ہیں،ای ڈی ایف کی سی اے پی 2030ء کی حکمت عملی کا مقصد 2015 سے 2030 تک اپنی خالص تنصیبی صلاحیت کو 28 گیگاواٹ سے 60 گیگاواٹ تک دُگنا کرنا ہے۔‘‘