.
یمن اور حوثی

یمن کی حوثی ملیشیا کا اقوام متحدہ کے نئے ایلچی سے شرائط پورا ہونے تک ملاقات سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا ہے کہ وہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے نئے خصوصی ایلچی کے ساتھ تعطل زدہ امن کوششوں کی بحالی کے لیے ملاقات نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کی شرائط پرعمل درآمد کے بغیر بات چیت بے سود ہوگی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے جمعہ کو سویڈش سفارت کار ہانس گرنڈبرگ کو یمن کے لیے اپنا خصوصی ایلچی مقررکیا ہے۔ان کا تقررایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اقوام متحدہ اور امریکا حوثیوں اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان امن بات چیت کی بحالی چاہتے ہیں۔

عُمان میں مقیم حوثیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد عبدالسلام نے گرنڈبرگ کے تقرر کے ردعمل میں ایک ٹویٹ میں کہا ہےکہ ’’ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو انسانی امدادی سامان کی ترسیل اور ترجیح کے طور پر کھولنے سے پہلے کسی قسم کی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘‘

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے رابطہ کرنے پر عبدالسلام نے ایک ٹیکسٹ پیغام میں کہا کہ ’’گرنڈبرگ سے ملاقات بے معنی ہوگی کیونکہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں اوریمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ٹم لِنڈرکنگ کے گذشتہ ماہ الریاض کے دورے کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘‘

اس وقت اقوام متحدہ کے یمن میں جنگ بندی کے لیے امن اقدام اورحوثیوں کے زیرقبضہ علاقوں پرعرب اتحاد کی عاید کردہ زمینی اور فضائی پابندیوں کے خاتمے کے لیے بات چیت تعطل کا شکار ہےکیونکہ عرب اتحاد بیک وقت ڈیل چاپتا ہے اورحوثی پہلے ناکا بندی کے خاتمے پر اصرار کررہے ہیں۔

لِنڈرکنگ نے خطے کا حالیہ دورہ ایسے وقت میں کیا تھا جب یمن کے گیس کی دولت سے مالا مال صوبہ مآرب کے ساتھ واقع دوسرے علاقوں بھی یمنی فوج اور حوثی ملیشیا کے درمیان لڑائی پھیل چکی تھی۔یمن کے شمال میں واقع مآرب حکومت کے کنٹرول میں واحد صوبہ ہے جبکہ حوثیوں نے اپریل سے اس صوبے پر قبضے کے لیے چڑھائی کررکھی ہے اور وہاں متحارب فورسز میں شدید لڑائی ہورہی ہے۔