.

سعودی عرب: اقامتی املاک کی مانگ میں تیزی سے اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی مشاورتی فرم نائٹ فرینک نے انکشاف کیا ہے کہ 2021 کی دوسری سہ ماہی کے دوران میں سعودی عرب میں اقامتی جائیداد کی مارکیٹ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

نائٹ فرینک نے اپنے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ ریویو میں اس عرصے کے دوران میں سعودی میں رئیل اسٹیٹ کے تمام شعبوں کا احاطہ کیا ہے۔ اس نے مختلف شعبوں میں ملی جلی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت الریاض میں اقامتی عمارتوں کے لین دین میں سال بہ سال 77 فی صد اضافہ ہوا ہے اوراسی طرح کی صورت حال بحیرہ احمر کے کنارے واقع شہر جدہ میں بھی دیکھنے میں آئی ہے جہاں گذشتہ سال اسی عرصے کے دوران میں فروخت ہونے والے مکانوں کی تعداد میں 44 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کی جانب سے ساکنی اور وافی ایسے اقدامات مملکت بھر میں گھریلو ملکیت کی شرح میں تیزی لانے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔نائٹ فرینک کے شراکت دار اور اس کے شعبہ مشرق اوسط تحقیق کے سربراہ فیصل درانی کے مطابق رہائشی مارکیٹ میں ترقی کے لیے حکومت کی کوششیں غیرمعمولی طور پر فعال ترقیاتی مارکیٹ فراہم کررہی ہیں۔ الریاض، جدہ اور الدمام میٹروپولیٹن ایریا میں 2023 کے اختتام سے قبل 155,000 نئے گھروں کی تعمیر مکمل ہوگی۔ان میں سے ایک لاکھ گھر صرف الریاض میں تعمیر کیے جارہے ہیں۔

دارالحکومت الریاض میں اپارٹمنٹ کی قیمتوں میں مملکت بھر میں سب سے زیادہ تیزی آرہی ہے اور سال بہ سال 7.6 فیصد اضافہ ہو رہا ہے اور یہ 2017 ءکے بعد ترقی کی تیز ترین رفتار ہے۔

دفتری بازار

اس جائزے کے مطابق الریاض کے سوا مملکت کے دفتری بازار میں کرایہ کی شرح میں کمی کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ اس کی طلب میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔الریاض میں گریڈ اے کے دفتر کے کرائے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گریڈ بی کی عمارتوں کےکرایوں میں اتارچڑھاؤ آسکتا ہے۔البتہ الریاض اور جدہ جیسے شہروں میں اگلے تین سال میں دفتروں کی کل فراہمی میں 25 فی صد اور36 فی صد اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔نائٹ فرینک کی رپورٹ کے مطابق 2023 کے آخر تک الریاض اور جدہ میں دفتروں کا کل رقبہ بالترتیب 53 لاکھ مربع میٹراور 18 لاکھ مربع میٹر تک پہنچ جائے گا۔

رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ ریٹیل سیکٹر کرونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، گذشتہ 18 ماہ کے دوران ملک بھر کے بڑے شاپنگ مالوں میں لیز کی شرح میں ایک فی صد سے 5 فی صد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ 2021 کی دوسری سہ ماہی کے دوران مملکت کے بہترین شاپنگ مالوں میں کرایوں میں الریاض، جدہ اور ڈی ایم اے میں 1.5 سے تین فی صد کے درمیان کمی واقع ہوئی ہے۔

سعودی مرکزی بنک (ساما) کے مطابق سعودی عرب میں صارفین کے اخراجات میں 2.1 فی صد اضافہ ہوا ہے اور 2021 کی پہلی سہ ماہی میں ان کی مالیت 261 ارب ریال کے لگ بھگ تھی جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ ان اخراجات کا حجم 256 ارب ریال تھا۔

خوراک اور مشروبات میں سب سے زیادہ بکری ہوئی ہے اور عام اخراجات 35 فی صد اضافے کے ساتھ 17.4 ارب ریال تک پہنچ گئے ہیں جبکہ اسی عرصے کے دوران ریستوران اور کیفے کے اخراجات میں 58.5 فی صد اضافہ ہوا ہے۔