سویڈن : ایران میں 1988ء کی اجتماعی پھانسیاں ، سابق ایرانی جج کے خلاف عدالتی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں آج پیر کے روز ایران کے ایک سابق جج حمید نوری کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز ہو رہا ہے۔ نوری پر 1988ء میں ایران میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی کارروائیوں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان سیاسی قیدیوں میں بڑی تعداد "مجاہدین خلق" تنظٰم کے ارکان کی تھی۔

Advertisement

سویڈن کی استغاثہ کے مطابق سویڈن کے پبلک پراسیکیوٹرز نے نوری کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں اور قتل کے ارتکاب کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

نوری کو نومبر 2019ء میں سویڈن پہنچتے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بلک پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ حمید نوری کی شناخت کرج میں گوہر دشت جیل کے پراسیکیوٹر کے معاون کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ اجتماعی پھانسیوں کے دوران "ڈیتھ کمیشن" کے آٹھ ارکان میں شامل تھا۔

اسی واسطے سویڈن کی ایک عدالت نے نوری پر "جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، تشدد، جرائم میں شرکت اور مرنے والوں کی لاشیں اہل خانہ کے حوالے نہ کرنے" کے حوالے سے متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔

اس وقت سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے پر عمل درامد کی مرکزی ذمے داری "ڈیکھ کمیشن" کے کاندھوں پر تھی۔ یہ کمیشن جن افراد پر مشتمل تھا ان میں موجودہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ، شرعی جج حسین علی نیری، وزارت انٹیلی جنس کا نمائندہ مصطفی پور محمدی اور تہران کا اٹارنی جنرل مرتضی اشرافی شامل ہیں۔

غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس موقع پر 6000 سے زیادہ افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ ان میں زیادہ تر مجاہدین خلق تنظیم کے حامی اور ارکان تھے۔ ان افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے احکامات خمینی کی جانب سے جاری کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں